’’اسپیس ٹیکنالوجی پارکس‘‘ سپارکو کا منفرد تربیتی پروگرام شروع
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو نے ابھرتی معیشتوں میں اسپیس ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے متعلق ایک منفرد ہائبرڈ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد اسپیس اور سائنس ٹیکنالوجی کے شعبے میں پالیسی اور عملی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
2 روزہ تربیتی پروگرام کی افتتاحی نشست سپارکو پاکستان میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سطح کے پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، صنعت کے نمائندوں اور جدت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
یہ تربیتی پروگرام انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور انٹر اسلامک نیٹ ورک آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارکس کے فریم ورک کے تحت منعقد کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ابھرتی معیشتوں میں اسپیس اور سائنس ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ تحقیق، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔
افتتاحی اجلاس سے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک، وزارتِ سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی ایران کے سینئر حکام اور سپارکو کے اعلیٰ افسران نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ منظم سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس جدت، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور یونیورسٹی و انڈسٹری اشتراک میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر عالمی معیار کے گورننس اور ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
تربیتی پروگرام کی رہنمائی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف سائنس پارکس اینڈ ایریاز آف انوویشن اور ایران کے ساؤتھ خراسان پرووننس ٹیکنالوجی مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین کر رہے ہیں۔ ان کی پیشکشوں میں پالیسی فریم ورک، گورننس ماڈلز اور علاقائی تعاون پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پائیدار اسپیس انوویشن ایکو سسٹمز قائم کیے جا سکیں۔
پروگرام کے پہلے روز اسٹریٹجک پلاننگ، گورننس ڈھانچوں، پالیسی اور ریگولیٹری سہولت کاری سمیت دانشورانہ املاک کے انتظام پر تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے جب کہ دوسرے روز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، فنڈنگ اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
سپارکو کے ترجمان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد تحقیق کو قابلِ عمل مصنوعات اور تجارتی اسپیس حل میں تبدیل کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی پارکس تربیتی پروگرام
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔