خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر موجود مصنوعی ذہانت سے چلنے والا چیٹ بوٹ گروک (Grok) دنیا بھر میں شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ یہ ٹول خواتین اور بچوں کی اجازت کے بغیر جنسی نوعیت کی تصاویر تیار کر رہا ہے، جس پر متعدد ممالک نے تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مسئلہ کیسے شروع ہوا؟یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ سال Grok Imagine کے نام سے ایک اے آئی امیج جنریٹر متعارف کرایا گیا، جو صارفین کو صرف تحریری ہدایات (Text Prompts) کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی اجازت دیتا ہے۔
اس فیچر میں ایک ’اسپائسی موڈ‘ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے بالغ مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ انکشاف ہوا کہ گروک صارفین کو دوسروں کی اپ لوڈ کردہ تصاویر میں رد و بدل کی اجازت دے رہا ہے، مثلاً:
’اس عورت کو شفاف بکنی میں دکھاؤ‘
چونکہ گروک پر تیار کی گئی تصاویر عوامی طور پر نظر آتی ہیں، اس لیے یہ مواد تیزی سے پھیل رہا ہے۔
تشویشناک اعداد و شمارغیر منافع بخش ادارے AI Forensics کی رپورٹ کے مطابق
25 دسمبر سے یکم جنوری کے درمیان گروک کی تیار کردہ 20 ہزار تصاویر کا تجزیہ کیا گیا۔
ان میں سے 2 فیصد تصاویر میں ایسے افراد دکھائے گئے جو بظاہر 18 سال سے کم عمر تھے۔
کم از کم 30 تصاویر میں کم عمر لڑکیوں کو شفاف یا نیم عریاں لباس میں دکھایا گیا۔
ایلون مسک اور ایکس کا ردعملایلون مسک کی اے آئی کمپنی xAI نے تبصرے کی درخواست پر صرف خودکار جواب دیا:
‘Legacy Media Lies’
تاہم، ایکس نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ ایسا مواد موجود ہے۔
ایکس کے سیفٹی اکاؤنٹ کے مطابق ’غیر قانونی مواد، بشمول بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، ہٹایا جاتا ہے، اکاؤنٹس معطل کیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کیا جاتا ہے۔‘
ایلون مسک کا کہنا تھا ’جو کوئی گروک کے ذریعے غیر قانونی مواد بنائے گا، اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو ایسا مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔‘
برطانیہ: فوری کارروائی کا مطالبہبرطانیہ کی ٹیکنالوجی سیکریٹری لز کینڈل نے کہا کہ یہ مواد ناقابلِ قبول اور مہذب معاشرے کے خلاف ہے۔
برطانوی ریگولیٹر آفکام نے ایکس اور xAI سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔
برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت بچوں سے متعلق جنسی مواد ہٹانا لازمی ہے۔
پولینڈ کے پارلیمنٹ اسپیکر ولودژمیر چرزاستی نے گروک کو مثال بنا کر ڈیجیٹل تحفظ کے سخت قوانین کا مطالبہ کیا، خاص طور پر بچوں کے تحفظ کے لیے۔
یورپی یونین: یہ غیر قانونی اور قابلِ نفرت ہےیورپی کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنر نے کہا کہ یہ غیر قانونی، قابلِ نفرت اور ناقابلِ قبول ہے۔
فرانس: فوجداری تحقیقات کا دائرہ وسیعفرانس کے استغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایکس کے خلاف جاری تحقیقات میں اب جنسی نوعیت کے ڈیپ فیک مواد کو بھی شامل کر رہا ہے۔
حکومت کے مطابق انٹرنیٹ کوئی قانون سے آزاد علاقہ نہیں۔ آن لائن جنسی جرائم بھی مکمل فوجداری جرائم ہیں۔
بھارتی حکومت نے ایکس کو 72 گھنٹوں میں غیر قانونی مواد ہٹانے اور گروک کے نظام پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
وزارت کے مطابق گروک کے ذریعے خواتین کی توہین آمیز اور فحش تصاویر تیار کی جا رہی ہیں۔
ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
ملائیشیا اور برازیل کی کارروائیاںملائیشیا میں ریگولیٹر نے فحش اور توہین آمیز مواد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برازیل میں رکنِ پارلیمنٹ ایریکا ہلٹن نے گروک اور ایکس کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی اور مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ایکس کے اے آئی فیچرز بند کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کی تصویر پر حق انفرادی ہوتا ہے، جسے سروس کی شرائط کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
گروک کے ذریعے تیار ہونے والی نازیبا اور غیر قانونی تصاویر نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی، قانونی اور سماجی خطرات کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مختلف ممالک کی سخت کارروائیاں اس بات کی علامت ہیں کہ اے آئی پر قانون سازی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایلون مسک گروک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایلون مسک گروک ایلون مسک کا مطالبہ کے ذریعے کے مطابق ایکس کے گروک کے کے خلاف رہا ہے اے آئی
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔