ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں، تاہم اب تک صرف 10 فیصد حصے پر ہی کام ہو سکا ہے، ابتدائی ڈیزائن کے تحت یونیورسٹی روڈ پر 96 انچ اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں بچھائی جا رہی تھیں، تاہم ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اب اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک صرف ایک ٹریک پر پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آگئی ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر جاری کے فور منصوبے کے تحت آگمینٹیشن کا کام روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورلڈ بینک کے اعتراضات اور منصوبے کے روٹ میں مجوزہ تبدیلی کے باعث کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر کے فور منصوبے کے تحت جاری آگمینٹیشن کا کام ورلڈ بینک کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی اور ناکافی حفاظتی اقدامات پر اعتراضات کے بعد روک دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے منصوبے میں ڈیزائن اور روٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آگمینٹیشن کا کام 10 نومبر کو شروع کیا گیا تھا، جسے 30 دسمبر تک مکمل کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.

7 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں، تاہم اب تک صرف 10 فیصد حصے پر ہی کام ہو سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی ڈیزائن کے تحت یونیورسٹی روڈ پر 96 انچ اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں بچھائی جا رہی تھیں، تاہم ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اب اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک صرف ایک ٹریک پر پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے اعتراضات دور کرنے کے بعد منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا، تاہم کام کی بحالی کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پائپ لائنیں بچھائی یونیورسٹی روڈ پر منصوبے کے تحت ورلڈ بینک کے بعد تک صرف

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار