کراچی کے شہریوں کے لیے بری خبر، کے فور منصوبے پر کام روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں، تاہم اب تک صرف 10 فیصد حصے پر ہی کام ہو سکا ہے، ابتدائی ڈیزائن کے تحت یونیورسٹی روڈ پر 96 انچ اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں بچھائی جا رہی تھیں، تاہم ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اب اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک صرف ایک ٹریک پر پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آگئی ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر جاری کے فور منصوبے کے تحت آگمینٹیشن کا کام روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورلڈ بینک کے اعتراضات اور منصوبے کے روٹ میں مجوزہ تبدیلی کے باعث کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر کے فور منصوبے کے تحت جاری آگمینٹیشن کا کام ورلڈ بینک کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی اور ناکافی حفاظتی اقدامات پر اعتراضات کے بعد روک دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے منصوبے میں ڈیزائن اور روٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آگمینٹیشن کا کام 10 نومبر کو شروع کیا گیا تھا، جسے 30 دسمبر تک مکمل کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پائپ لائنیں بچھائی یونیورسٹی روڈ پر منصوبے کے تحت ورلڈ بینک کے بعد تک صرف
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔