یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کا مفتی منیب الرحمان کے ہاتھوں سنگِ بنیاد رکھ دیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)فلاحی صحتِ عامہ کے شعبے کے فروغ کی جانب ایک سنگِ میل قدم کے طور پر معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمٰن نے اتوار کے روز گلستانِ جوہر میں یونیورسٹی روڈ کے قریب جدید فلاحی اسپتال کے منصوبے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس (UMC) کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کیا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سالانہ دو لاکھ سے زائد نادار مریضوں کو بلا معاوضہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس امامیہ میڈکس انٹرنیشنل (IMI) کے تحت قائم کیا جا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ ادارہ ہے۔ اس تنظیم میں زیادہ تر شمالی امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد طبی ماہرین شامل ہیں اور یہ ادارہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسان دوست طبی خدمات کا طویل اور قابلِ فخر ریکارڈ رکھتا ہے۔
سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے اس فلاحی اقدام کو سراہا اور کہا کہ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس بلا تفریق انسانیت کی خدمت کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ محروم طبقات کو معیاری علاج مہیا کرنا اسلام کی تعلیمات اور حضور نبی کریم ﷺ کے پیغام سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے بتدریج تجارتی رنگ اختیار کر چکے ہیں، جس کے باعث یہ سہولتیں کمزور طبقوں کی دسترس سے باہر ہو رہی ہیں۔ مفتی منیب نے آئی ایم آئی اور اس کے شراکت دار فلاحی اداروں کو سراہا کہ انہوں نے یو ایم سی کو ایک غیر منافع بخش، اعلیٰ درجے کے فلاحی اسپتال کے طور پر تعمیر بنانے کا فیصلہ کیا، جو مستحق اور نادار مریضوں کے لیے وقف ہوگا۔
اسی روز منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سابق نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر نے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کو کراچی میں معیاری طبی سہولیات کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے بروقت اور ناگزیر منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ ملک بھر میں فلاحی بنیادوں پر صحت اور تعلیم کے دیگر منصوبوں کے لیے مثال بنے گا۔
جسٹس باقر نے مخیر حضرات اور عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ یو ایم سی جیسے منصوبوں کی دل کھول کر معاونت کریں تاکہ کم وسائل رکھنے والے خاندانوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ منصوبے کی تعمیر اور آئندہ آپریشنز کے تمام مراحل میں اس کے فلاحی تشخص کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے۔
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین نے یو ایم سی منصوبے کے لیے اپنی جامع ادارہ جاتی حمایت کا اعلان کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ اپنے سماجی فلاحی اہداف کامیابی سے حاصل کرے گا۔ انہوں نے پاکستان اور دنیا کے دیگر پسماندہ علاقوں میں آئی ایم آئی کی مسلسل فلاحی طبی خدمات کو بھی سراہا۔
معروف مذہبی اسکالر مفتی فضل ہمدرد نے بھی مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ یو ایم سی کی جلد تکمیل کے لیے فراخدلانہ تعاون کریں، کیونکہ مصیبت زدہ انسانیت کی خدمت اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔
آئی ایم آئی کے بانی ڈاکٹر وجیہہ رضوی نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کو ایک ہمہ گیر، کثیر التخصص طبی ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر، خواتین و بچوں کی صحت کی سہولیات، اور متعدی و غیر متعدی امراض کا جدید علاج فراہم کیا جائے گا۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت یو ایم سی طبی تعلیم اور تحقیق کا مرکز بھی بنے گا۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا، “کراچی تیزی سے دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں شامل ہو رہا ہے، جہاں معیاری صحت کی سہولیات کی طلب موجودہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ یو ایم سی خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے گا، جو نجی علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ یو ایم سی کے قیام کا تصور پاکستان بھر میں آئی ایم آئی کے زیرِ انتظام 25 فلاحی کلینکس کے تجربے سے جنم لے کر سامنے آیا، جہاں اس وقت سالانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم آئی کو 25 برس قبل اقوامِ متحدہ کی منظوری حاصل ہوئی، جو 2006 میں مشاورتی حیثیت میں اپ گریڈ کی گئی—یہ امتیازی حیثیت ادارے کی ساکھ اور مستقل انسانی خدمات کا واضح ثبوت ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے پاکستان 2005 کے تباہ کن زلزلے، حالیہ تباہ کن سیلابوں اور ہیٹی کے زلزلے سمیت بڑے انسانی بحرانوں میں آئی ایم آئی کے صفِ اول کے کردار کو بھی یاد کیا، جہاں یہ ادارہ چند مسلم نژاد طبی امدادی تنظیموں میں شامل تھا جنہوں نے ہنگامی طبی خدمات فراہم کیں۔
فنڈ ریزنگ سیشن کی میزبانی معروف اداکار خالد انعم نے کی، جس دوران مخیر حضرات اور عطیہ دہندگان نے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کے لیے 16 کروڑ روپے سے زائد کے عطیات کا اعلان کیا۔ معروف سماجی شخصیت نادرا پنجوانی نے منصوبے کے لیے 50 لاکھ روپے کی خطیر امداد دینے کا اعلان کیا۔
یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کا آغاز قابلِ رسائی، باوقار اور فلاحی بنیادوں پر صحت کی سہولیات کی جانب ایک مضبوط قدم ہے، جو انسانیت کی خدمت کے لیے پائیدار اور جامع طبی نظام کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم آئی مفتی منیب یو ایم سی فراہم کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔