پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کل اسلام آباد میں ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کل اسلام آباد میں ہوگی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )ایچ بی ایل پی ایس ایل میں توسیع کے سلسلے میں دو نئی ٹیموں کی نیلامی کل اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ نیلامی جناح کنونشن سینٹر میں ہوگی جس کا باقاعدہ آغاز شام 4 بج کر 15 منٹ پر کیا جائے گا۔پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی بار لیگ میں دو نئی فرنچائزز شامل کی جا رہی ہیں جس کے بعد پی ایس ایل سیزن 11 میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہو جائے گی۔
نیلامی کا عمل براہِ راست پی سی بی اور پی ایس ایل کے آفیشل یوٹیوب چینلز، ٹیپ میڈ، تماشا اور پی سی بی لائیو (یوکے) پر دکھایا جائے گا جبکہ اے اسپورٹس، جیو اسپورٹس، فاسٹ اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس بھی نیلامی کو براہِ راست نشر کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نئی ٹیموں کے حصول کے لیے 10 معروف کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نیلامی میں ایم نیکسٹ، ڈہرکی شوگر ملز، ایف کے ایس، پرزم ڈیولپرز، انوریکس سولر، جاز، آئی ٹو سی (i2c)، ولی ٹیکنالوجیز، ویگو ٹیل اور اوزی ڈویلپرز حصہ لیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآذربائیجان کے صدر نے غزہ میں فوج بھیجنے سے انکار کردیا آذربائیجان کے صدر نے غزہ میں فوج بھیجنے سے انکار کردیا وزیر داخلہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، انسداد دہشتگردی سے متعلق مشترکہ اقدامات پر گفتگو سرحدپار لوگوں میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی کمی ہے،کوشش ہے انہیں گرا ئونڈ میں جواب دیں: شاہین آفریدی تیل وینزویلا کا لیکن اختیار امریکا کا؛ ٹرمپ کے بیان کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی مستفیض کو آئی پی ایل سے نکالنا افسوسناک ہے، ایسا پاکستان کیساتھ بھی ہوتا رہا ہے: معین علی بھی بول پڑے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا معاملہ: بنگلہ دیشی بورڈ آج آئی سی سی کو تحفظات سے آگاہ کریگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پی ایس ایل نئی ٹیموں ٹیموں کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔