این سی سی آئی اے کے سابق ڈی جی کی معطلی کا نوٹی فکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سابق ڈی جی وقار الدین سید کی معطلی کے احکامات جاری کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے (NCCIA) وقار الدین سید کی معطلی کے احکامات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق پولیس سروس گریڈ 20 کے وقارالدین سید کو سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت ابتدائی طور پر 120 دن کیلئے معطل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیںواٹس ایپ ہیکنگ سے کیسے بچا جائے، این سی سی آئی اے نے عوام کی مشکل آسان کردی
این سی سی آئی اے افسران اور اہلکاروں کیخلاف کال سینٹر کرپشن کیس میں بڑی پیشرفت
ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت 4 افسران کی گرفتاری ظاہر کردی
وقار الدین سید 28 اکتوبر 2025 کو ڈی جی این سی سی آئی اے کے عہدے سے ہٹائے گئے تھے جس کے بعد وقار الدین سید اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر تھے۔
حکومت پاکستان نے 3 مئی 2024 کو ملک کے اندر سائبر جرائم کی تحقیقات کے لئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی تھی جس نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ لی اور جسے سائبر کرائم کی روک تھام کی بین لاقوامی سطح کی تربیت فراہم کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی ا ئی اے وقار الدین سید
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔