مرزا آدم خان روڈ طویل عرصہ سے حکومتی آنکھ سے اوجھل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ گزرتی ’مرزا آدم خان روڈ‘ لیاری کی وہ سڑک ہے جو خاصے طویل وقت سے حکومت کی آنکھ سے اوجھل ہے۔
تقریباً 4 کلومیٹر طویل اس سڑک کے ایک حصے پر حکومت سندھ نے کام کروایا ہے، مگر اس وقت بھی سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گٹر کے ڈھکن نایاب ہیں اور علاقہ مکین مشکلات سے دوچار ہیں۔
ٹاؤن چیئرمین کہتے ہیں چند روز میں ٹینڈر ہو جائے گا، جس کے بعد مکمل سڑک تعمیر کی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جانے والا لیاری، جہاں ٹاؤن، بلدیہ عظمیٰ اور صوبائی حکومت ایک ہی جماعت کے پاس ہیں، اس کے باوجود تقریباً 4 کلو میٹر طویل مرزا آدم خان روڈ کی تقدیر بدل نہ سکی۔
علاقہ مکین جہاں کھلے گٹروں سے پریشان ہیں، وہیں دھول مٹی نے بھی ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
میران ناکہ سے گلبائی تک تقریبا 1 اعشاریہ 8 کلومیٹر طویل سڑک پر پیپلز بس سروس بھی چلتی ہے جو کہ حکومت سندھ نے 2024ء میں بنائی مگر وہاں کے حالات بھی ابتر ہو چکے ہیں۔
لیاری ٹاون چیئرمین ناصر کریم نے بتایا کہ اس سڑک کا ٹینڈر چند روز میں ہونا ہے، جس کے بعد یہ مکمل سڑک تعمیر کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔