وفاقی حکومت کا آئی ایم ایف پروگرام کے اسٹرکچر میں تبدیلیوں پر غور
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
حکومت نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے اسٹرکچر میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاشی گروتھ بڑھانے، غربت اور بے روزگاری میں کمی اور پالیسی ریٹ میں کمی جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں، تاکہ ملک کی معیشت مستحکم رہ سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اسلام آباد کے ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے تجاویز تیار کر لی ہیں۔ حکومت تیسرے سال میں معاشی گروتھ کو فروغ دینے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئی ایم ایف سے پرائمری بیلنس اور صوبائی بجٹ سرپلس کے اہداف میں ریلیف کی درخواست کر سکتی ہے، تاکہ معیشت آن ٹریک رہتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزارت خزانہ کے مطابق تجاویز میں معاشی گروتھ کے لیے مؤثر اقدامات، غربت میں کمی، بے روزگاری میں کمی اور پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی شامل ہیں۔ حکومت ان تجاویز کو آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر کے قرض پروگرام میں ریلیف حاصل کرنے کی ورکنگ کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اقدامات اور تجاویز عوام کو ریلیف دینے اور ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے تناظر میں تیار کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز