بھارت:جیولری دکانوں میں حجاب اورنقاب پرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پٹنہ: ہندوتوا کی پیروکارمودی سرکار تیزی سے بھارت کو ہندو دیش بنانے میں لگی ہوئی ہے جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بن رہے ہیں ۔
بھارتی ریاست بہار میں حجاب اور نقاب پہننے والی خواتین اب سونا نہیں خرید سکتی ہیں۔ آل انڈیا جولرس اینڈ گولڈ فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ جو کسٹمر اپنے چہرے کو حجاب، نقاب سے چہرے کو ڈھانپ کر رکھی ہوں گی، انہیں زیورات کے دکانوں اور شو رومز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ متنازع فیصلہ ان مردوں پر بھی لاگو ہوگا جو اپنے چہرے کو ماسک یا ہیلمٹ جیسی چیزوں سے ڈھک رکھے ہوں گے۔ اس فیصلے کے مطابق اب بہار میں زیورات چہرہ دکھانے کے بعد ہی خریدے جاسکتے ہیں۔
آل انڈیا جولرس اینڈ گولڈ فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے بتایا کہ یہ قدم زیورات کی دکانوں میں ہو رہی چوری اور لوٹ پاٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اشوک کمار کے مطابق ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مکمل طور پر سکیورٹی خدشات پر مبنی ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ دکانوں میں منہ چھپا کر داخل ہوتے ہیں۔ وہ ہیلمٹ، گھونگھٹ یا نقاب پہن کر تین یا چار کے گروہ میں داخل ہوتے ہیں اور ڈکیتی کرتے ہیں۔
اشوک کمار ورما نے کہا کہ ہمارا مقصد برقع پر پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ حجاب یا برقع پہننے والوں سے درخواست کرنا ہے کہ چہرہ دکھا کر ہی خریداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خواتین ہماری بات مانیں گی اور اس میں تعاون کریں گی۔
اشوک کمار ورما نے نہ صرف حجاب پہننے والی خواتین سے بلکہ گمچھا یا ہیلمٹ پہننے والے مردوں سے بھی اپیل کی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا چہرہ پہچانا نہیں جا سکتا۔
مسلم خواتین کے بارے میں اشوک ورما نے کہا کہ “میں برقع کے خلاف نہیں ہوں لیکن اگر کوئی گاہک اور دکاندار آمنے سامنے ہوں تو ایک رشتہ بنتا ہے،یہ اصول کسی خاص برادری کے لیے نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے۔
بھارتی مسلمانوں نے اس فیصلے کو مسلم خواتین کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مودی کی مسلم دشمنی کا نیا حربہ قرار دیا ہے۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اشوک کمار
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔