جاپان کے خلاف چین کی برآمدی پابندیوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے جاپان پر سخت تر برآمدی پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ پابندیاں ان اشیا پر عائد کی گئی ہیں، جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ چین کی وزارت تجارت نے اپنے اعلان میں کہا کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق جاپان کی فوجی صلاحیتوں کو تقویت ملنے کے خدشے کے پیش نظر ایسی اشیا کی جاپان کو برآمد منع ہے۔ اس سے قبل چین کی طرف سے اعلان کردہ برآمدی کنٹرول لسٹ میں نایاب معدنیاتی دھاتیں شامل تھیں۔ تازہ ترین اقدام میں مزید معدنیات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ اعلان میں مخصوص درآمد کنندگان کا نام نہیں لیا گیا جن پر پابندیاں عائد ہوں گی،جب کہ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نئی پابندیاں کس طرح نافذ ہوں گی۔ دوسری جانب جاپان نے برآمدات پر پابندیاں سخت کرنے کے اعلان کے بعد چین سے سخت احتجاج کیا ۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع گزشتہ برس نومبر میں اس وقت شروع ہوا جب پارلیمانی اجلاس میں وزیراعظم نے تائیوان پر کسی بھی جارحیت کو جاپان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاپانی اور انگریزی میں پیغام جاری کیا، جس میں جاپان کوآگ سے کھیلنے سے باز رہنے کی تاکید کی گئی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چین کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔