ایمان مزاری کی فوجی ترجمان کو عدالت بلانے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-8
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اپنے خلاف عدالت میں زیر سماعت ’متنازع ٹویٹس کیس‘ پر اثر انداز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کو بطور گواہ عدالت بلانے کی
درخواست دائر کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق اسلام آباد سیشن کورٹ میں دائر درخواست میں ایمان مزاری کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے خلاف بیان دیا، انھیں خود کش بمباروں کے لیے انسانی حقوق کا کارکن قرار دیا اور یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی ڈوریاں بیرون ملک سے ہلائی جا رہی ہیں۔ایمان مزاری کے مطابق ایک سرکاری افسر ہونے کے ناطے پاک فوج کے ترجمان کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عدالت میں چلنے والے مقدمے پر اثر انداز ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے اپنی درخواست میں ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کو بطور گواہ بلایا جائے اور ان پر جرح کی جائے کیوں کہ ان کے لگائے الزامات کے ’ثبوت‘ سامنے آنا کیس کے لیے ضروری ہے۔درخواست کے مطابق ’بد نیتی سے دیے گئے ان متعصبانہ بیانات پر اگر جرح نہ کی گئی تو مقدمہ خراب ہو گا۔ ایسا نہ ہونے کی صورت ملزموں کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اور ضروری ہو گا کہ مقدمہ ہی کالعدم قرار دے دیا جائے۔جج افضل مجوکا نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلبی کی درخواست پر استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے درخواست کی کاپی استغاثہ کو بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کے سب انسپکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست 2025 کو درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔مقدمے میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم کرنا اور ملک میں بے امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔