شوگر ملز کاشتکاروںکو پریشان کررہی ہیں، سندھ آباد گار بورڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-17
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) سندھ آبادگار بورڈ نے سندھ کین کمشنر کو خط لکھ کر کرشنگ کا عمل سست کرنے اور کاشتکاروں کو قیمت کے بارے میں بتائے بغیر گنے کی خریداری کو متعلقہ ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور شوگر ملوں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا ہے۔سندھ آبادگار بورڈ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ مختلف اضلاع بالخصوص ضلع میرپور خاص کے کسانوں کی جانب سے شکایات ہیں کہ شوگر ملیں رات کے وقت گنے کی کرشنگ کا عمل جان بوجھ کر سست کردیتی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کرشنگ کے عمل کو سست کرنا شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے سیکشن 8 کی صریحا خلاف ورزی ہے، سیکشن 8 شوگر ملوں کو مقررہ گنجائش اور وقت کے مطابق گنے کی کرشنگ کرنے کا پابند کرتا ہے۔سندھ آبادگار بورڈ نے مزید کہا ہے کہ حالیہ سیزن میں شوگر ملیں شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ میں بتائے گئے وقت سے تاخیر سے چلائی گئی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکار پہلے ہی متاثر ہیں اور اب شوگر ملوں کی سست روی سے کاشتکاروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور نقصانات کا سامنا ہے۔سندھ آبادگار بورڈ نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ شوگر ملز کی انتظامیہ کسانوں کو پیشگی قیمت بتائے بغیر گنے کی خریداری کر رہی ہے۔ قانون کے مطابق شوگر ملوں کو گنے کی خریداری کے لیے کسانوں کو جاری کی جانے والی رسید میں گنے کی قیمت اور خریدے گئے گنے کی کل رقم لکھنا ہوتی ہے لیکن یہ نہیں لکھا جا رہا جو کہ ایک غیر قانونی فعل بھی ہے اور شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے سیکشن 16 کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے۔سندھ آبادگار بورڈ نے کمشنر کو لکھے گئے خط میں مزید کہا ہے کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت شوگر ملوں میں قانون کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر کارروائی کی جائے، تاکہ قانون کی حقیقی روح کے مطابق عمل کرکے چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے سندھ آبادگار بورڈ نے شوگر ملوں کہا ہے کہ گنے کی
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔