جو بائیڈن کی ریٹائرمنٹ پنشن نے امریکی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
واشنگٹن:امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کو صدارت کی مدت مکمل ہونے کے بعد امریکی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ریٹائرمنٹ پنشن مل رہی ہے، سادہ الفاظ میں کہا جائے تو بائیڈن کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسی مالی سہولیات حاصل ہیں جو ماضی کے تمام صدور سے زیادہ ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 83 سالہ جو بائیڈن کو سالانہ تقریباً 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن دی جا رہی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رقم ان کی بطور صدر سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے، اس طرح بائیڈن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تنخواہ سے زیادہ رقم حاصل کر رہے ہیں۔
نیشنل ٹیکس پیئر یونین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیمین بریڈی کے تجزیے کے مطابق یہ پنشن امریکی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر کو ملنے والی سب سے بڑی ریٹائرمنٹ رقم ہے، جو بائیڈن کی یہ آمدن سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ آمدن سے بھی تقریباً دو گنا ہے جو اس بات کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ بائیڈن کو غیر معمولی مراعات حاصل ہیں۔
ماہرین کے مطابق جو بائیڈن کو یہ زیادہ پنشن ان کے طویل سیاسی کیریئر کی وجہ سے مل رہی ہے۔ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے، اس کے بعد نائب صدر اور پھر امریکا کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس طویل سرکاری خدمت کے نتیجے میں وہ مختلف سرکاری پنشن اسکیموں کے اہل قرار پائے۔
تفصیلات کے مطابق سابق صدر کی حیثیت سے بائیڈن کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر پنشن ملتی ہے جبکہ کانگریس کی سول ریٹائرمنٹ اسکیم کے تحت بھی انہیں اضافی رقم دی جاتی ہے، جس سے مجموعی پنشن بڑھ کر 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔
پنشن کے علاوہ امریکی قانون کے تحت سابق صدور کو دفاتر، عملہ، سیکیورٹی اور دیگر سرکاری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں، 2026 کے بجٹ میں جو بائیڈن کے لیے 15 لاکھ ڈالر سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، جس میں دفتر کے کرائے اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جو بائیڈن بائیڈن کو کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔