لاہور (نیوز رپورٹر) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے لئے کاروباری سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔ تاجر برادری کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے۔ ملکی معیشت بہتر ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار اْنہوں نے لاہور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے محمد امجد چودھری اور عظمت علی شاہ کی قیادت میں گورنر ہائوس لاہور میں ان سے ملاقات کی۔ گورنر نے کہا کہ تاجروں کو سازگار ماحول مہیا کر کے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے جس سے عام آدمی کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اْنہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو مضبوط کریں گے تو ملک کی معیشت اچھی ہو گی اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔ جب سے گورنر بنا ہوں، میری کوشش ہے کہ میں کاروباری لوگوں سے ملوں اور ان کے مسائل حل کروں۔ اْنہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لئے ون ونڈو کی سہولت ہونی چاہے۔ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر پالیسیاں بنانا مناسب نہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں ملک کی ترقی اور بحرانوں کے حل کے لئے ہمیشہ سنجیدہ حکمت عملی اپنائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے لئے نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟