Islam Times:
2026-07-24@02:38:05 GMT

موساد کی ایران میں ہنگاموں کی حکمت عملی کیسے ناکام بنی!

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

موساد کی ایران میں ہنگاموں کی حکمت عملی کیسے ناکام بنی!

اسلام ٹائمز: باشعور ملتِ ایران، بیرونی مداخلت کے مختلف پہلوؤں اور اس کے پسِ پردہ موجود ناپاک مقاصد کو درست طور پر سمجھتے ہوئے، موساد اور اس کے مغربی حامیوں کے تیار کردہ پازل کو نہ بننے دے گی اور نہ مکمل ہونے دے گی۔ اجتماعی بیدار مغزی ہی اس کھلی انٹیلی جنس کارروائی کے مقابلے میں ایک مضبوط دفاعی دیوار ہے۔ موساد کی جانب سے ایران میں عوامی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کی کھلی اور عریاں حمایت، اور صہیونی ریاست کی جانب سے پُرامن احتجاج کو ہنگامہ آرائی میں بدلنے کی کوشش، تل ابیب کے اس رویّے اور حکمتِ عملی کو واضح کر دیتی ہے جو ایران کے ساتھ مکمل تصادم پر مبنی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد سے ہی ایران کیخلاف علامی استعمار اور بالخصوص فلسطینی مظلومین کی حمایت کی وجہ سے صیہونی انٹیلیجنس اور ریاست معاندانہ اقدامات کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ہنگامے بھی اسی کی ایک شکل ہیں، لیکن ملتِ ایران موساد اور اس کے مغربی حامیوں کے تیار کردہ پازل کو مکمل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ اسرائیل کی دہشت گرد اور انٹیلی جنس تنظیم موساد نے اپنے رویّے میں نمایاں تبدیلی لاتے ہوئے براہِ راست ایرانی عوام کو احتجاج کے تسلسل کی اپیل کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ نہ صرف پسِ پردہ بلکہ میدان میں بھی ان کی حمایت کر رہی ہے۔

ماضی میں موساد کی جانب سے داخلی بے چینی کی حمایت عموماً خفیہ اور بالواسطہ انداز میں کی جاتی رہی، لیکن سوشل میڈیا پر موساد کے فارسی زبان اکاؤنٹ سے «اب وقت آ گیا ہے» جیسے براہِ راست پیغامات اور «میدان میں موجودگی» پر زور، اس بات کی علامت ہیں کہ موساد خفیہ کارروائیوں کے مرحلے سے نکل کر کھلے عام منصوبہ بندی اور عملی حمایت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت جنگِ ترکیبی (Hybrid Warfare) کی شدت اور وسعت کو مزید گہرا کرتا ہے۔

اس اعلانیہ پیغام کی اشاعت، اسرائیلی حکومت کے ناپسندیدہ وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سطحی ملاقات کے فوراً بعد ہونا، اس تجزیے کو تقویت دیتا ہے کہ ایران اس وقت صہیونی ریاست اور اس کے مغربی حامیوں کے ساتھ ایک وسیع اور ہمہ گیر جنگِ ترکیبی کے قلب میں کھڑا ہے۔ اس میدان میں کامیابی محض سڑکوں پر حالات کو قابو میں رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ دشمن کی تیار کردہ متن اور پسِ متن (Narrative & Meta-Narrative) پر غلبہ حاصل کرنے اور اس کی سرگرمیوں کی ہوشیارانہ نگرانی میں مضمر ہے۔

باشعور ملتِ ایران، بیرونی مداخلت کے مختلف پہلوؤں اور اس کے پسِ پردہ موجود ناپاک مقاصد کو درست طور پر سمجھتے ہوئے، موساد اور اس کے مغربی حامیوں کے تیار کردہ پازل کو نہ بننے دے گی اور نہ مکمل ہونے دے گی۔ اجتماعی بیدار مغزی ہی اس کھلی انٹیلی جنس کارروائی کے مقابلے میں ایک مضبوط دفاعی دیوار ہے۔ موساد کی جانب سے ایران میں عوامی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کی کھلی اور عریاں حمایت، اور صہیونی ریاست کی جانب سے پُرامن احتجاج کو ہنگامہ آرائی میں بدلنے کی کوشش، تل ابیب کے اس رویّے اور حکمتِ عملی کو واضح کر دیتی ہے جو ایران کے ساتھ مکمل تصادم پر مبنی ہے۔

ایرانی عوام سمجھتے ہیں کہ اب ہم کسی پیچیدہ معادلے کا سامنا نہیں کر رہے، دشمن کا نیٹ ورک جنگِ ترکیبی کے میدان میں اپنی تمام تر طاقت ایران کی سرزمینی سلامتی، قومی وجود اور قومی یکجہتی کے خلاف جھونک چکا ہے۔ ایسے حالات میں یہ واضح ہے کہ اس جنگِ ترکیبی کا مقابلہ کرنے کے لیے دو بنیادی اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی:
اوّل: صہیونی دشمن کی چالوں اور منصوبہ بندی کی پر نظر رکھنا۔
دوم: دشمن کے جنگِ ترکیبی کے نیٹ ورک کی گہری شناخت۔

موساد کا نیٹ ورک تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہے:
نمبر ایک: صہیونی ریاست جو ہنگامہ آرائی اور حالیہ تحرکات کی مرکزی محرک ہے۔
نمبر دو: امریکہ، یورپی یونین کے رکن ممالک اور ان سے وابستہ میڈیا نیٹ ورکس، جو صہیونی ریاست کے مستقل حامی اور ملتِ ایران کے قسم خوردہ دشمن ہیں۔
نمبر تین: ایران کے اندر وہ عناصر اور مہرے جو بیرونی طاقتوں سے وابستہ ہیں اور ہمیشہ انقلاب مخالف دھاروں کے پیادہ فوج کے طور پر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ضروری ہے کہ دشمن کے اس کھیل کی تینوں سطحوں کو پہچانتے اور ان پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے، جہادِ تبیین اور شعوری و باخبر اقدام کے سائے میں ان سب کا ہمہ جہت تدارک کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور اس کے مغربی حامیوں کے صہیونی ریاست کی جانب سے تیار کردہ ایران کے موساد کی

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی