ایلون مسک کا AI پلیٹ فارم Grok خواتین اور بچوں کی جنسی تصاویر بنانے پر تنازع میں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے AI چیٹ بوٹ Grok تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔
صارفین کی تحریری ہدایات پر یہ پلیٹ فارم خواتین اور بچوں کی اجازت کے بغیر جنسی نوعیت کی تصاویر تخلیق کر رہا ہے۔
Grok Imagine کے ذریعے 25 دسمبر سے 1 جنوری کے دوران تیار کی گئی 20 ہزار تصاویر میں کم از کم 30 میں بچوں کو نیم عریاں لباس میں دکھایا گیا۔ xAI کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مواد فوری ہٹایا جاتا ہے، اکاؤنٹس معطل کیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔
برطانیہ، پولینڈ، فرانس، بھارت، ملائیشیا اور برازیل میں متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور AI کے اس غلط استعمال پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ AI کے اخلاقی، قانونی اور سماجی خطرات کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے اور مستقبل میں اس کے لیے سخت قوانین کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔