والدہ کے انتقال کے بعد علی طاہر کے ساتھ شوٹنگ کے دوران کیا ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار علی طاہر نے اپنی والدہ کے انتقال کے فوراً بعد ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والے ناخوشگوار تجربے سے پردہ اُٹھا دیا۔
خیال رہے کہ علی طاہر سینئر فنکار، ماہرِ تعلیم اور مصنف نعیم طاہر اور معروف ریڈیو شخصیت یاسمین طاہر کے صاحبزادے ہیں، جبکہ وہ اداکارہ وجیہہ طاہر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہیں، جو ان کے ڈیبیو ڈرامے تین بٹا تین میں ان کی ساتھی فنکارہ بھی تھیں۔ علی طاہر ایک پیاری سی بیٹی کے والد بھی ہیں۔
حال ہی میں علی طاہر نے کامیڈین اداکار و میزبان احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والے ناخوشگوار تجربے پر بات کرتے کہا کہ ہمارے ڈرامہ سیٹس پر بدانتظامی کے باعث اکثر تلخ تجربات ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کبھی معمولی باتوں پر سیٹ چھوڑ کر نہیں گئے کیونکہ ان کے نزدیک پروڈیوسرز اپنی محنت اور سرمایہ لگاتے ہیں، اس لیے فنکار کو حد سے زیادہ نازک مزاج نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
علی طاہر کے مطابق وہ ایک منظر کی شوٹنگ کے لیے 7 گھنٹے تک انتظار کرتے رہے، جبکہ انہیں داڑھی لگائی گئی تھی جس میں مٹی یا کوئی اور مواد بھی شامل تھا۔ طویل انتظار کے بعد وہ شدید غصے اور دکھ کا شکار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کار سے صرف اتنا کہا کہ آپ کی پلاننگ بہت خراب ہے۔
علی طاہر نے مزید بتایا کہ بعض لوگ ایسے تجربات کے بعد پوری ٹیم کے خلاف سخت باتیں کرتے ہیں، مگر میں عموماً پُرسکون رہتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والا یہ واقعہ میری والدہ کے انتقال کے بعد پیش آیا تھا۔ اس وقت میں صدمے میں تھا اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، ورنہ میں ہمیشہ تحمل سے کام لیتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈرامہ سیٹ علی طاہر انہوں نے طاہر کے کے بعد
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔