فائل فوٹو

خیبر پختونخوا میں مارخور ٹرافی ہنٹ کے نان ایکسپورٹیبل کوٹے کے معاملے پر محکمہ جنگلات وجنگلی حیات کے پی نے وفاقی حکومت کو وضاحتی خط ارسال کردیا۔

محکمہ جنگلات وجنگلی حیات نے اپنے خط میں لکھا کہ مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کے نان ایکسپورٹیبل کوٹے کی منظوری پہلے ہی کے پی وائلڈ لائف بورڈ دے چکا ہے۔ کوٹہ مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کی خاطر خواہ آبادی کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔

خط کے مطابق اس سال نان ایکسپورٹیبل کوٹے پر نیلامی اور پرمٹس جاری ہوچکے ہیں، کوٹے پر دوبارہ جائزہ لینے سے عملی اور انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے کوٹے پر وفاق اور صوبائی حکومت میں تنازع

خط میں کہا گیا ہے کہ نان ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، غیر برآمدی کوٹے سے متعلق صوبائی حکومت کی پوزیشن مکمل طور پر درست ہے۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام وقت سے جڑا ہے اور یہ مقامی کمیونٹی کی آمدن میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہنٹنگ سے حاصل آمدن مقامی کمیونٹیز اور جنگلی حیات کی حفاظت پر خرچ کی جاتی ہے۔

خط کے مطابق نان ایکسپورٹیبل مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کا کوٹہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، یہ بین الاقوامی تجارت کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے نان ایکسپورٹیبل شکار کے لیے وفاق حکومت سے اجازت قانونی طور پر ضروری نہیں۔

وضاحتی خط میں محکمہ جنگلی حیات نے معاملہ وفاق کے ساتھ مشاورت اور قانونی دائرے میں حل کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے سائٹس اجلاس کے منٹس پر نظرثانی کی درخواست کردی۔

اس سلسلے میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات جنید خان نے کہا کہ مارخور کے شکار کو وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی ایکٹ 2015 کے تحت مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔

جنید خان نے کہا کہ مارخور کے پائیدار شکار پروگرام سے مقامی کمیونٹیز کو خاطر خوا مالی فوائد حاصل ہیں، امید ہے بات چیت کے ذریعے وفاقی حکومت کے ساتھ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نان ایکسپورٹیبل آئی بیکس

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان