پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی آج ہو گی، 10 خریداروں کے نام سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ایچ بی ایل پی ایس ایل میں توسیع کے سلسلے میں دو نئی ٹیموں کی نیلامی آج اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ نیلامی جناح کنونشن سینٹر میں ہوگی جس کا باقاعدہ آغاز شام 4 بج کر 15 منٹ پر کیا جائے گا۔
پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی بار لیگ میں دو نئی فرنچائزز شامل کی جا رہی ہیں جس کے بعد پی ایس ایل سیزن 11 میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہو جائے گی۔
نیلامی کا عمل براہِ راست پی سی بی اور پی ایس ایل کے آفیشل یوٹیوب چینلز، ٹیپ میڈ، تماشا اور پی سی بی لائیو (یوکے) پر دکھایا جائے گا جبکہ اے اسپورٹس، جیو اسپورٹس، فاسٹ اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس بھی نیلامی کو براہِ راست نشر کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نئی ٹیموں کے حصول کے لیے 10 معروف کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نیلامی میں ایم نیکسٹ، ڈہرکی شوگر ملز، ایف کے ایس، پرزم ڈیولپرز، انوریکس سولر، جاز، آئی ٹو سی (i2c)، ولی ٹیکنالوجیز، ویگو ٹیل اور اوزی ڈویلپرز حصہ لیں گے۔
پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ نئی فرنچائزز کے ممکنہ شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل ہیں، تاہم حتمی فیصلہ نیلامی کے بعد کیا جائے گا۔ پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک شیڈول ہے۔
نیلامی کے بعد ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی جس میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان خصوصی پرفارمنس پیش کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان شاہینز اور ہانگ کانگ سپر سکسز کی فاتح ٹیموں کو بھی انعامات دیے جائیں گے۔
پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل نیلامی ایونٹ کا آفیشل ہیش ٹیگ #NewEra رکھا گیا ہے جو لیگ کے نئے دور اور توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔