ایچ بی ایل پی ایس ایل میں توسیع کے سلسلے میں دو نئی ٹیموں کی نیلامی آج اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ نیلامی جناح کنونشن سینٹر میں ہوگی جس کا باقاعدہ آغاز شام 4 بج کر 15 منٹ پر کیا جائے گا۔

پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی بار لیگ میں دو نئی فرنچائزز شامل کی جا رہی ہیں جس کے بعد پی ایس ایل سیزن 11 میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہو جائے گی۔

نیلامی کا عمل براہِ راست پی سی بی اور پی ایس ایل کے آفیشل یوٹیوب چینلز، ٹیپ میڈ، تماشا اور پی سی بی لائیو (یوکے) پر دکھایا جائے گا جبکہ اے اسپورٹس، جیو اسپورٹس، فاسٹ اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس بھی نیلامی کو براہِ راست نشر کریں گے۔

ذرائع کے مطابق نئی ٹیموں کے حصول کے لیے 10 معروف کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نیلامی میں ایم نیکسٹ، ڈہرکی شوگر ملز، ایف کے ایس، پرزم ڈیولپرز، انوریکس سولر، جاز، آئی ٹو سی (i2c)، ولی ٹیکنالوجیز، ویگو ٹیل اور اوزی ڈویلپرز حصہ لیں گے۔

پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ نئی فرنچائزز کے ممکنہ شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل ہیں، تاہم حتمی فیصلہ نیلامی کے بعد کیا جائے گا۔ پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک شیڈول ہے۔

نیلامی کے بعد ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی جس میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان خصوصی پرفارمنس پیش کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان شاہینز اور ہانگ کانگ سپر سکسز کی فاتح ٹیموں کو بھی انعامات دیے جائیں گے۔

پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل نیلامی ایونٹ کا آفیشل ہیش ٹیگ #NewEra رکھا گیا ہے جو لیگ کے نئے دور اور توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی