بالوں کے بغیر بھی مکمل، دلہن کی خود اعتمادی نے مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بھارت سے تعلق رکھنے والی مہیما گھائی کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جہاں انہوں نے گنجے سر کے ساتھ دلہن بن کر نہ صرف سب کی توجہ حاصل کی بلکہ خوبصورتی، نسوانیت اور خود قبولیت سے متعلق ایک اہم بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
مہیما گھائی، جو ایلوپیشیا کے باعث کم عمری میں ہی بالوں سے محروم ہو گئی تھیں نے اپنی شادی کے دن کسی وِگ یا مصنوعی سہارے کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس اہم دن پر کسی اور کا روپ نہیں دھارنا چاہتیں تھیں بلکہ خود کو اسی شکل میں قبول کرنا چاہتی تھیں جیسا وہ حقیقت میں ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by The Better India (@thebetterindia)
سرخ روایتی لہنگے میں ملبوس مہیما کبھی بغیر دوپٹے کے اور کبھی ہلکے سے سر ڈھانپے نظر آئیں۔ ان کے انداز میں نہ جھجک تھی اور نہ ہی وضاحت کی کوئی کوشش۔ یہی سادگی اور اعتماد ان کی تصاویر کو غیر معمولی بنا گیا۔
اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں مہیما نے بتایا کہ بالوں کے جھڑنے کا تجربہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی تکلیف دہ رہا۔ علاج، سوالات، نظریں اور خاموشیاں برسوں تک ان کے ساتھ رہیں جس کے باعث وہ طویل عرصے تک خود کو چھپانے کی کوشش کرتی رہیں۔ تاہم ایک مرحلے پر انہوں نے اس بوجھ کو اتارنے کا فیصلہ کیا اور اپنا سر منڈوانا ان کے لیے بغاوت نہیں بلکہ سکون بن گیا۔
View this post on Instagram
A post shared by Mahima Ghai | visual artist (@mahimaghai26)
شادی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر سے خواتین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ایلوپیشیا، کینسر اور دیگر وجوہات سے بالوں کے جھڑنے کا سامنا کرنے والی کئی خواتین نے کہا کہ مہیما کو اس اعتماد کے ساتھ دیکھ کر انہیں بھی خود کو قبول کرنے کا حوصلہ ملا۔
مہیما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شادی کی یادوں میں خود کو پہچاننا چاہتی تھیں، نہ کہ کسی ایسے روپ میں دیکھیں جو معاشرتی توقعات کے تحت اپنایا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بال ہوں یا نہ ہوں، میں کبھی نامکمل نہیں تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوکھی شادی شادی کی ویڈیو وائرل گنجی دلہن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انوکھی شادی شادی کی ویڈیو وائرل گنجی دلہن شادی کی خود کو
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔