15 جنوری کو بلدیاتی نظام پر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی، جمہوریت دشمن، عوام سے نفرت کا اظہار ہے
آئی پی پیز کیخلاف منظم تحریک کا آغاز کرینگے، غزہ میں فوج بھیجنا قوم کو قبول نہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے، پندرہ جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے، نتائج کے بعد پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ بدھ کو اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کابل نئی دہلی سے امیدیں وابستہ کرے، دونوں مسلمان پڑوسی ممالک بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج کا غزہ جانا قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال اجمد خان، امیر اٹک سردار امجد علی خان اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس سواتی نے بھی خطاب کیا۔ خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد جلسہ عام میں شریک تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔