صدر ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن نے راجہ مصطفیٰ، سید حسن کاظمی اور دیگر گرفتار کارکنان کی فوری اور بلاشرط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ظالمانہ کارروائیاں قابلِ مذمت ہیں اور انہیں ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ناجائز گرفتاریاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو اس کے خلاف بھرپور جمہوری اور آئینی احتجاج کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے صدر علامہ شیخ محمد صادق جعفری نے سربراہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے فرزند اور وحدت یوتھ کے نائب صدر راجہ مصطفیٰ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور کھلا ظلم قرار دیا ہے۔ علامہ شیخ محمد صادق جعفری نے اپنے بیان میں کہا کہ راجہ مصطفیٰ کی گرفتاری درحقیقت گرفتاری نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی انتقامی کارروائی ہے، جس کے ذریعے باہمت، باخبر اور حق گو نوجوان قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے یزیدی نظام اور پنجاب حکومت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں حق، شعور اور عوامی حمایت رکھنے والی نوجوان قیادت سے خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان قیادت کو دبانے کی کوششیں دراصل حکومت کی ناکامی، خوف اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہیں، ایسے ہتھکنڈے نہ تو حق کی آواز کو دبا سکتے ہیں اور نہ ہی عوامی جدوجہد کو روک سکتے ہیں۔ صدر ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن نے راجہ مصطفیٰ، ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری سید حسن کاظمی اور دیگر گرفتار کارکنان کی فوری اور بلاشرط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ظالمانہ کارروائیاں قابلِ مذمت ہیں اور انہیں ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ناجائز گرفتاریاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو اس کے خلاف بھرپور جمہوری اور آئینی احتجاج کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم کیا جائے گا راجہ مصطفی کہا کہ

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان