سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی کو جلسہ کی اجازت نہیں ملی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے وزیراعلی کے پی کے دورہ کراچی کے موقع پر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی عوامی اجتماع کے لیے متبادل آپشنز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت شہر بھر سے کارکنوں اور عوامی قافلوں کو مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی کے پی اپنے وفد کے ہمراہ کراچی کے دورے پر آ رہے ہیں پی ٹی آئی اس موقع پر باغ جناح میں جلسہ کرنا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر نے 11 جنوری کو باغ جناح میں جلسہ کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ کو درخواست دی تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے وزیراعلی کے پی کے دورہ کراچی کے موقع پر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی عوامی اجتماع کے لیے متبادل آپشنز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت شہر بھر سے کارکنوں اور عوامی قافلوں کو مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا۔ ذرائع نے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے بعد عوام سے خطاب کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دورہ کراچی کے موقع پر پر پی ٹی آئی کی اجازت دیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز