کوئٹہ، نجی نرسری میں بچوں کی تبدیلی کا معاملہ، تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
نظام الدین نامی شخص کا دعویٰ ہے کہ اسکے بچے کو نرسری میں لایا گیا تھا، تاہم تین روز بعد ہسپتال انتظامیہ نے انہیں بچے کے بجائے بچی دے دی۔ مجموعی طور پر تین متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قائم نجی نرسری میں نومولود بچوں کی تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تین متاثرین کا دعویٰ ہے کہ نرسری انتظامیہ نے ان کے بچوں کو تبدیل کیا ہے۔ نظام الدین نامی متاثرہ والد کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انکے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا، جسے تبدیل کرکے انہیں بیٹی دی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے الشفاء بے بی کئیر میں مذکورہ واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نظام الدین کا معاملہ سامنے آیا۔ جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے گھر بیٹا پیدا ہوا، تاہم تین روز بعد اسے بیٹی دی گئی، جبکہ اس کے دستاویزات میں بھی رد و بدل کے شواہد ملے ہیں۔
متاثرہ شخص کا دعویٰ ہے کہ اس کے بچے کے بجائے نرسری انتظامیہ انہیں بچی دے رہی ہے۔ اس معاملے کے سوشل میڈیا پر گردش کے بعد دو اور متاثرین منظرعام پر آ گئے ہیں، جنہوں نے ہسپتال انتظامیہ پر اسی الزام کو دوہرایا کہ ان کے بچے بھی تبدیل کئے گئے۔ معاملے کے سامنے آنے کے بعد پولیس واقعہ اور شواہد کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں اس معاملے پر بے چینی پائی جا رہی ہے۔ وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے، اس میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔