کوئٹہ: جناح روڈ پر واقع نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچی مبینہ طور پر غائب، نرسری عملے کے 4 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ پر واقع ایک نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچی کے مبینہ طور پر غائب ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نرسری عملے کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ صوبائی وزیر صحت نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشکی سانحہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سول اسپتال کوئٹہ کا ہنگامی دورہ
کلی عمر کے رہائشی متاثرہ شہری نظام الدین نے بتایا کہ اس نے 3 جنوری کو اپنی نومولود بچی کو علاج اور نگہداشت کے لیے نجی ہیلتھ سینٹر کے انکیوبیٹر میں رکھنے کے لیے عملے کے حوالے کیا تھا۔ نظام الدین کے مطابق آج سینٹر کے عملے نے فون کرکے اسے کہا کہ آکر اپنی بچی لے جائیں، تاہم جب وہ سینٹر پہنچا تو صورتحال حیران کن طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔
متاثرہ شہری کے مطابق جب اس نے نرسری عملے سے کہا کہ اس نے اپنی بچی سینٹر کے حوالے کی تھی تو عملے نے پہلے کہا کہ بچی انتقال کر گئی ہے۔ بعد ازاں عملے نے موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بچی غلطی سے کسی اور فیملی کے حوالے کر دی گئی ہے۔
نظام الدین نے بتایا کہ جب اس نے عملے کی بتائی گئی فیملی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہی بچہ واپس لے گئے تھے، جو بعد میں انتقال کر گیا۔ متاثرہ شہری نے کہا کہ اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کس کی بچی اسے واپس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی اپنی نومولود بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
مزید تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے نظام الدین نے بتایا کہ نجی ہیلتھ سینٹر میں نصب خفیہ کیمروں کی متعلقہ تاریخ کی فوٹیج بھی غائب کر دی گئی ہے، جس سے واقعے پر شکوک مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: مظاہرین 5 خود کش حملہ آوروں کی لاشیں اسپتال سے زبردستی لے گئے، معاملہ کیا ہے؟
واقعے کے خلاف بچے کے ورثا نے شدید احتجاج کیا اور پولیس کو باقاعدہ درخواست دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری عملے کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت کا نوٹس
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچے کی تبدیلی یا گمشدگی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو واقعے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن 24 گھنٹوں کے اندر واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:’ہر بار دوائیاں باہر سے لانا پڑتی ہیں‘، سول اسپتال کوئٹہ میں عوام ادویات سے محروم کیوں؟
بخت محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد جہاں بھی غیر قانونی عمل سامنے آیا، ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بخت محمد کاکڑ کوئٹہ نومولود اغوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بخت محمد کاکڑ کوئٹہ نومولود اغوا نجی ہیلتھ سینٹر نومولود بچی نے بتایا کہ نرسری عملے نظام الدین کرتے ہوئے عملے کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی
مزید :