کوئٹہ: اسپتال میں نوزائیدہ بچے کی مبینہ تبدیلی، لڑکا لڑکی سے بدل دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ جناح روڈ پر واقع ایک نرسری میں نوزائیدہ لڑکے کو لڑکی سے تبدیل کرنے کے مبینہ واقعے پر وزیرِ صحت نے نوٹس لے لیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ پانچ روز قبل ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی، جسے طبی پیچیدگی کے باعث نرسری میں انکیوبیٹر میں رکھا گیا، تاہم بعد ازاں نرسری عملے نے لڑکے کی جگہ لڑکی حوالے کر دی۔
واقعے پر متاثرہ والد نے نرسری انتظامیہ کے خلاف درخواست دائر کی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری کے عملے کو تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا۔
وزیرِ صحت نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔
حکام کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔