امریکی شہر منیاپولس میں احتجاج کے دوران آئی سی ای اہلکار کی فائرنگ، خاتون ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا۔ آئی سی ای کے مطابق خاتون نے اہلکار کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون موقع سے گاڑی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا؟یہ واقعہ بدھ کے روز ایسٹ 34ویں اسٹریٹ اور پورٹلینڈ ایونیو پر پیش آیا، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر آئی سی ای کی گاڑیوں کو گھیر کر انہیں علاقے سے نکلنے سے روکنے کی کوشش کی۔
ہلاک ہونے والی 37 سالہ خاتون کی شناخت اس کی والدہ نے رینی نیکول گڈ کے نام سے کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ خود کو ایک آئینی مبصر قرار دیتی تھیں۔
آئی سی ای کے مطابق رینی گڈ نے اپنی ایس یو وی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی۔ اہلکار نے جان کے خطرے کے پیش نظر 2 فائر کیے، جن میں سے ایک گولی خاتون کے سر میں لگی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔
ویڈیو اور ٹرمپ کا ردعملامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں ایک گاڑی کو آئی سی ای اہلکار سے ٹکراتے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اہلکار نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور یہ واقعہ بائیں بازو کے شدت پسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ زخمی اہلکار اسپتال میں زیر علاج ہے اور صحتیاب ہو رہا ہے۔
مقامی پولیس کا مختلف بیانمنیاپولس پولیس کے مطابق خاتون سڑک بند کیے ہوئے تھی اور جب ایک اہلکار نے گاڑی کے قریب جانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، جس دوران فائرنگ ہوئی۔ پولیس کا بیان صدر ٹرمپ اور آئی سی ای کے مؤقف سے مختلف ہے۔
احتجاج، شیلنگ اور افراتفریمقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے پہلے آئی سی ای کی گاڑیوں پر برف کے گولے اور دیگر اشیا پھینکیں، جس پر اہلکاروں نے ہجوم منتشر کرنے کے لیے کیمیکل شیل استعمال کیے۔
تحقیقات شروعواقعے کے بعد مقامی پولیس اور ایف بی آئی نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب منیاپولس میں امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔
منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز کو واقعے پر بریفنگ دی گئی، جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم نے واقعے کو گھریلو دہشتگردی قرار دیا۔
میئر کا سخت ردعملمنیاپولس کے میئر جیکب فری نے اس واقعے کا ذمہ دار آئی سی ای کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی ای کی موجودگی شہر میں افراتفری اور عدم اعتماد کو جنم دے رہی ہے اور مطالبہ کیا کہ وفاقی اہلکار شہر چھوڑ دیں۔
میئر کا کہنا تھا کہ شہر ٹرمپ انتظامیہ کو فوجی مداخلت کا جواز فراہم نہیں کرے گا اور نفرت کے جواب میں اتحاد اور محبت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
میئر نیویارک ظہران ممدانی کی مذمتنیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے سال میں پیش آنے والا تازہ ترین سانحہ ہے جو پہلے ہی بے رحمی اور تشدد سے بھرپور رہا ہے۔
This morning, an ICE agent murdered a woman in Minneapolis—only the latest horror in a year full of cruelty.
As ICE attacks our neighbors across America, it is an attack on us all. New York stands with immigrants today, and every day that follows.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 7, 2026
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ میں اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ہے کہ امریکا بھر میں آئی سی ای کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں دراصل پورے معاشرے پر حملہ ہیں، اور یہ کہ ایسے اقدامات ملک میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ نیویارک ریاست آج بھی اور آئندہ بھی تارکینِ وطن کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی ای کی کی کوشش کی اہلکار نے انہوں نے یہ واقعہ کے مطابق کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔