امریکا، امیگریشن چھاپے کے دوران اہلکار کی فائرنگ سے خاتون شہری ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
MINNEAPOLIS, US:
امریکا میں غیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف کارروائیاں ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوئیں۔ امریکی شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے کے دوران ایک خاتون سرکاری اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی.
واقعہ ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں امیگریشن چھاپوں کے خلاف پہلے ہی عوامی غم و غصہ اور احتجاج جاری تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد نے اہلکاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی اسی دوران ایک خاتون ڈرائیور کو گولی مار دی گئی، جو موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے آئی سی ای اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی جس کے ردعمل میں فائرنگ کی گئی۔
تاہم انسانی حقوق کے حلقوں اور مقامی قیادت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کو طاقت کا بے رحمانہ استعمال قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیںامریکا نے تیل بردار جہاز ضبط کرلیا؛ روس کا سخت ردعمل آگیا
تیل وینزویلا کا لیکن اختیار امریکا کا؛ ٹرمپ کے بیان کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار نے خود کو بچانے کے لیے اقدام کیا جبکہ ان کے مطابق خاتون مبینہ طور پر مزاحمت اور بدنظمی میں ملوث تھی۔
دوسری جانب کانگریس کی رکن الہان عمر نے اس واقعے کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کمیونٹیز کے تحفظ کے بجائے شہریوں کی جان لے رہے ہیں جو کھلا ریاستی تشدد ہے۔
منیاپولس کے مئیر نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای اہلکار کی لاپرواہی کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہوئی۔
واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔