نوجوان روزگار نہ ہونے کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے، مولانا ہدایت الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
چمن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث نوجوان جرائم کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری قاری امداد اللہ کے گھر پر رات کے اندھیرے میں چادر اور چار دیواری کی پامالی ایک سنگین واقعہ ہے، جس کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور فوری و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چمن پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی چمن کے ضلعی رہنماوں قاری عطاء اللہ مسلم، ڈاکٹر بسم اللہ اچکزئی، مولوی مصطفیٰ آغا جان و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور چادرو چار دیواری کی پامالی غیر انسانی اقدام ہے۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ معاشرتی اقدار کی اس طرح کی خلاف ورزیاں نہ صرف قابل مذمت ہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک مثال بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے چمن بارڈر کی مسلسل بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بے روزگاری اور فاقہ کشی عروج پر ہے، حتیٰ کہ کچھ نوجوان روزگار نہ ہونے کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے، جو حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات کے باوجود پاک افغان بارڈر پر سخت پابندیاں لگانا چمن کے عوام کے ساتھ صریح ناانصافی اور ظلم ہے، جس کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے۔ بارڈر بندش کے باعث مال بردار گاڑیوں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس نقصان کا فوری ازالہ کیا جائے اور متاثرین کی داد رسی کی جائے۔ انکا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث نوجوان جرائم کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ چمن اور گردونواح میں چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے انتظامی افسران پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کھلی ناانصافی ہے۔ بجلی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ تمام سرکاری محکموں میں میرٹ کی پامالی بند کی جائے اور شفاف نظام نافذ کیا جائے۔ چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ عوام کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے، بصورتِ دیگر عوام اپنے آئینی و جمہوری حق کے تحت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بلوچستان میں بے روزگاری ایک بڑا مسلہ بن گیا ہے اور نوجوان بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کو روزگار دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بے روزگاری نے کہا کہ انہوں نے کے باعث
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔