بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں بدھ کی شب اپوزیشن جماعت بی این پی کی رضاکار تنظیم کے ایک سابق سینیئر رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن کارکنوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر، جو بی این پی کی رضاکار تنظیم جتیاتابادی سوییچچھاسبک دل کی ڈھاکا نارتھ یونٹ کے سابق جنرل سیکریٹری تھے، وسطی ڈھاکا کے علاقے بشندھرا سٹی کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

یہ بھی پڑھیے: سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

فائرنگ کے اسی واقعے میں ایک اور شخص سفیان بیپاری مسعود، جو مقامی لیبر یونین کے رہنما ہیں، زخمی ہو گئے۔ انہیں گولی لگنے کے بعد ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

واقعے کے بعد بی این پی کے کارکنان نے کاروان بازار کے علاقے میں جمع ہو کر احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے سڑکیں بلاک کر دیں، جبکہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نامعلوم تھے جو واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ حکام کے مطابق اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے، تاہم تاحال حملے کے محرکات کا تعین نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع

مقامی بی این پی رہنماؤں کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر فائرنگ سے کچھ دیر قبل پارٹی ساتھیوں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے اس قتل کو ‘منظم اور ٹارگٹڈ حملہ’ قرار دیتے ہوئے حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ ملک میں عام انتخابات سے قبل سیاسی صورتحال کے ایک نازک مرحلے پر پیش آیا ہے، جہاں ماضی میں بھی اپوزیشن سرگرمیوں کے دوران جھڑپیں اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا فائرنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا فائرنگ بنگلہ دیش بی این پی کے بعد

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی