بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعت بی این پی کے رہنما عزیز الرحمان فائرنگ سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں بدھ کی شب اپوزیشن جماعت بی این پی کی رضاکار تنظیم کے ایک سابق سینیئر رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن کارکنوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر، جو بی این پی کی رضاکار تنظیم جتیاتابادی سوییچچھاسبک دل کی ڈھاکا نارتھ یونٹ کے سابق جنرل سیکریٹری تھے، وسطی ڈھاکا کے علاقے بشندھرا سٹی کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت
فائرنگ کے اسی واقعے میں ایک اور شخص سفیان بیپاری مسعود، جو مقامی لیبر یونین کے رہنما ہیں، زخمی ہو گئے۔ انہیں گولی لگنے کے بعد ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے کے بعد بی این پی کے کارکنان نے کاروان بازار کے علاقے میں جمع ہو کر احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے سڑکیں بلاک کر دیں، جبکہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نامعلوم تھے جو واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ حکام کے مطابق اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے، تاہم تاحال حملے کے محرکات کا تعین نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع
مقامی بی این پی رہنماؤں کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر فائرنگ سے کچھ دیر قبل پارٹی ساتھیوں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے اس قتل کو ‘منظم اور ٹارگٹڈ حملہ’ قرار دیتے ہوئے حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ ملک میں عام انتخابات سے قبل سیاسی صورتحال کے ایک نازک مرحلے پر پیش آیا ہے، جہاں ماضی میں بھی اپوزیشن سرگرمیوں کے دوران جھڑپیں اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا فائرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا فائرنگ بنگلہ دیش بی این پی کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔