بنوں میں دو گروپوں کے تصادم میں تین افراد جاں بحق، 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ منڈان کی حدود میں پیش آیا جہاں دو گروپوں کے مابین تلخ کلامی لڑائی میں تبدیل ہو گئی اور بعد ازاں دونوں جانب سے فائرنگ کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ بنوں کے علاقے میتاخیل میں دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ منڈان کی حدود میں پیش آیا جہاں دو گروپوں کے مابین تلخ کلامی لڑائی میں تبدیل ہو گئی اور بعد ازاں دونوں جانب سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال بنوں منتقل کیا گیا، جہاں سے 3 زخمیوں کو تشویشناک حالت کے باعث مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پشاور یونیورسٹی کا طالب علم حسن بھی شامل ہے جو چند روز قبل چھٹیاں منانے اپنے گھر آیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی شناخت عجب خان، روشان اور حسن کے ناموں سے ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اسپتال پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ دوسری جانب بنوں کے منڈان گیٹ کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پولیس اہلکار کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل ہاشم علی خان اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی میں آ رہے تھے کہ حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل ہاشم علی خان اور ان کا 3 سالہ بیٹا زخمی ہو گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس کے مطابق دو گروپوں کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک