لاہور: نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنیوالی طالبہ کو ہوش آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسکرین گریب
لاہور کی نجی یورنیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، آئی سی یو میں زیر علاج طالبہ ہوش میں آگئی۔
جنرل اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے، وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، آکسیجن سپورٹ جاری ہے، ہیمو ڈائنامکس بھی مستحکم ہیں۔
واقعہ اسی نجی یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں کے ایک طالبعلم محمد اویس نے تقریباً دو ہفتے پہلے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ فاطمہ نے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی، طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری سے متعلق کل پھر جائزہ لیا جائے گا۔
چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی حالت پر تفصیلی بریفنگ دی، پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل کو طالبہ فاطمہ کے اب تک کے علاج اور آئندہ کے طبی لائحہ عمل سے متعلق مکمل آگاہ کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خودکشی کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔