شزا فاطمہ، داماک پراپرٹیز وفد ملاقات، ڈیجیٹل تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ سے دبئی کی معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی داماک پراپرٹیز کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں تعاون اور امکانات پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹائزیشن وژن پر بھی وفد کو بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن حکومت کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور اصلاحات کی بنیاد ہے، جس کا مقصد ایک جامع اور انوویشن پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کا قیام ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے رمضان پیکج کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے صرف ایک ماہ میں پانچ لاکھ خواتین کے ڈیجیٹل والٹس کھولے گئے۔
وفاقی وزیر نے عالمی شراکت داریوں کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے سازگار ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ وفد نے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ملک کے ڈیجیٹلائزیشن فریم ورک کو سراہتے ہوئے پراپ ٹیک، ٹوکنائزیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری میں پاکستان کے وسیع امکانات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔