تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وائی فائی سگنلز اب دیواروں کے پار بھی انسانی موجودگی اور حرکت کو محسوس کر سکتے ہیں۔

2022 میں کارنیگی میلون یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا جس کے ذریعے روزمرہ کے وائی فائی سگنلز کو استعمال کرتے ہوئے کمرے کے اندر لوگوں کی پوزیشن اور حرکت کو درست انداز میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی گھر کی حفاظت، بزرگوں کی نگرانی یا ایمرجنسی سرچ اور ریسکیو میں انقلاب لا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ پرائیویسی کے سنگین خدشات بھی جڑ گئے ہیں۔

محققین نے موجودہ وائی فائی روٹرز کو ڈیپ لرننگ الگورتھمز کے ساتھ تبدیل کیا تاکہ سگنلز کے انسانی جسم اور دیگر اشیاء سے ٹکرانے کے انداز کو سمجھا جا سکے۔

روایتی کیمرے یا لائیڈار پر مبنی موشن ڈیٹیکٹر کے برعکس، یہ طریقہ کسی بھی گھر یا دفتر کو اضافی ہارڈویئر کے بغیر بنیادی موشن سینسنگ سسٹم میں بدل دیتا ہے۔

سسٹم وائی فائی سگنلز میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا تجزیہ کرتا ہے جب یہ انسانی جسم سے گزرتے یا اس کے ارد گرد بٹتے ہیں۔ ایک نیورل نیٹ ورک ماڈل کے ذریعے یہ سگنل تبدیلیاں تھری ڈی سلیوئٹس میں بدل جاتی ہیں، جس سے دیوار کے پار حرکت کرنے والے افراد کے عمل اور جسمانی حرکات جیسے بیٹھنا یا کھڑا ہونا بھی شناخت کیے جا سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد کی نگرانی یا گھر میں مشکوک رویوں کی شناخت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ کیمروں پر منحصر نہیں، اس لیے ذاتی پرائیویسی کچھ حد تک برقرار رہتی ہے۔

ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وائی فائی روٹرز پہلے سے دستیاب ہیں اور سسٹم کے لیے صرف سوفٹ ویئر پروسیسنگ کی ضرورت ہے۔ اس سے کم لاگت والے اسمارٹ ہومز یا صحت کی دیکھ بھال میں یہ ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، مثلاً بزرگ مریضوں کی نگرانی بغیر کیمروں کے۔

اس تحقیق کے ساتھ اخلاقی اور پرائیویسی کے مسائل بھی جڑے ہیں۔ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط استعمال میں آجائے تو صرف وائی فائی سگنلز کے ذریعے آپ کی ہر حرکت ٹریک کی جا سکتی ہے۔

محققین نے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور خفیہ نگرانی کے لیے نہیں بنائی گئی، مگر ممکنہ غلط استعمال کے خدشات موجود ہیں۔

کارنیگی میلون کی ٹیم پرائیویسی کی حفاظت کے فیچرز پر کام کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں یہ طاقتور ٹول محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال ہو، خاص طور پر حساس ماحول میں۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جا تی ہے تو ہوم سیکورٹی، بزرگوں کی دیکھ بھال، ایمرجنسی ریسکیو اور کم لاگت والے اسمارٹ ہومز میں انقلاب آ سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ اس کا استعمال قانونی اور اخلاقی دائرے میں رہے تاکہ پرائیویسی کے مسائل نہ جنم لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وائی فائی سگنلز یہ ٹیکنالوجی کے ساتھ سکتی ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف