بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کیلیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ وزارت صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے زیر اہتمام پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے شرکت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ آج ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے بہت بڑا دن ہے کیونکہ ہمارے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ٹیلی میڈیسن سسٹم ہے، جسے وفاقی بنیادی صحت مراکز میں شروع کر دیا گیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن سسٹم شعبہ صحت میں ایک خاموش انقلاب ہے‘ اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی ادارہ ڈیجیٹل صحت سہولیات فراہم کرے گا۔
مانیٹرنگ ڈیسک
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیلی میڈیسن سسٹم
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔