27واں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 آئندہ ماہ لاہور میں منعقد ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور:
لاہور میں آئندہ ماہ 17 سے 19 جنوری تک 27واں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 منعقد کیا جائے گا، جو پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں جدت، ترقی اور سرمایہ کاری کے ایک روشن اور نئے دور کے آغاز کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان تیزی سے خطے میں ایک طاقتور، جدید اور مستقبل آفرین آئی ٹی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ ملک کے ٹیک سیکٹر کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور جدت انگیز پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
آئی ٹی سی این ایشیا 2026 پاکستان کا ایک اہم اور باوقار عالمی ٹیکنالوجی ایونٹ ہے، جس میں پہلی مرتبہ ملک کا مکمل ٹیک، آئی ٹی اور اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر یکجا ہوگا۔ نمائش میں وفاقی و صوبائی وزراء، پالیسی ساز، صنعتکار، آئی ٹی ماہرین اور بین الاقوامی مندوبین بھرپور شرکت کریں گے۔
منتظمین کے مطابق ایونٹ میں 850 سے زائد اسٹالز، 3 ہزار سے زائد عالمی برانڈز جبکہ 350 سے زائد بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مندوبین کی آمد متوقع ہے۔ یہ شاندار نمائش ای کامرس گیٹ وے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام اور ایس آئی ایف سی کی بصیرت افروز اور فیصلہ کن معاونت سے منعقد کی جا رہی ہے۔
ایونٹ کے دوران عالمی چیف انفارمیشن سیکیوریٹی آفیسر سمٹ کے ساتھ سائبر تھریٹ انٹیلیجنس، اے آئی لیڈرشپ، ڈیجیٹل اثاثہ جات اور فِن ٹیک فارورڈ فورمز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ، تربیتی ورکشاپس اور رہنمائی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق آئی ٹی سی این ایشیا 2026 پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک مضبوط، فیصلہ کن اور دور رس قدم ہے۔ ایس آئی ایف سی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں باوقار مقام دلانے میں کلیدی اور قابلِ ستائش کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ یہ نمائش ملکی و بین الاقوامی اداروں کے درمیان سرمایہ کاری، پارٹنرشپ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے دیرپا اور سازگار مواقع فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی سی این ایشیا 2026
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر