data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا کردار عالمی امن کے لیے تباہی، آزاد ریاستوں کے لیے توہین آمیز ہوچکا ہے،ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔اقوامِ متحدہ خصوصاً سیکورٹی کونسل کے ویٹو پاور اختیار کے حامل ممالک کو امریکی چیرہ دستیوں کو روکنا ہوگا،پاک افغان پرامن تعلقات دونوں ملکوں اور عوام کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان حکومتیں خود ہی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں۔لیاقت بلوچ نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم، عالم باعمل مولانا فضل الرحیم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد علما اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اشرفیہ عالم اسلام اور پاکستان میں دینی تعلیم کا بہت اہم مرکز ہے، مولانا فضل الرحیم عالم باعمل،انتہائی نفیس اور مثالی استاد تھے، اْن کا شمار اکابر علما میں تھا۔ مجھے ذاتی طور پر شرف حاصل ہے کہ مولانا عبیداللہ اشرفیؒ، مولانا عبدالرحمن اشرفیؒ اور مولانا فضل الرحیمؒ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ نفاذِ شریعت اور اتحادِ اْمت کے لیے تینوں بھائیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا۔ مولانا فضل الرحیم کی خدمات تادیر سلامت رہیں گی۔ ہر طبقہ اور مکتب فکر نے اْن کی موت کو اپنا صدمہ جانا ہے۔ مرحوم کے مولانا مودودیؒ، میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کو 75 سال ہوگئے، سفارتی تعلقات کا یہ سفر بااعتماد، پائیدار دوستی کی روشن تاریخ ہے۔ عالمی تناظر میں پاک چین دوستی کئی ممالک کو کھٹکتی ہے لیکن پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے جو ان شاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ چین کی اقتصادی ترقی بے مثال ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کے لیے بہت اہم ہے۔ سی پیک کی تکمیل حقیقتاً پورے خطے کے لیے گیم چینجر ہوگا۔ عالمی بدلتے ہوئے حالات میں چین کا بڑا عالمی کردار ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکا آزاد، خودمختار ممالک کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے، امریکی صدر کا کردار عالمی امن کے لیے تباہی، آزاد ریاستوں کے لیے توہین آمیز ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ عالمی امن نوبل انعام سے مایوسی کے بعد صدر ٹرمپ امن کے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ خصوصاً سیکورٹی کونسل کے ویٹو پاور اختیار کے حامل ممالک کو امریکی چیرہ دستیوں کو روکنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے پاک افغان کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان پْرامن تعلقات ونوں ملکوں اور عوام کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان حکومتیں خود ہی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں۔ چین، ترکی اور قطر بھی پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں۔بھارت کی اسپورٹس دہشت گردی جنوبی ایشیا میں کھیلوں کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ پاکستان، سری لنکا، بنگلا دیش اور افغانستان کرکٹ بورڈز کو مشترکہ لائحہ عمل سے بھارتی اسپورٹس دہشت گردی کو لگام دینا ہوگی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحیم سفارتی تعلقات لیاقت بلوچ نے پاک افغان پاک چین کہ پاک کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت