اقوامِ متحدہ و سیکورٹی کونسل امریکی چیرہ دستیوں کو روکے‘لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-08-18
لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا کردار عالمی امن کے لیے تباہی، آزاد ریاستوں کے لیے توہین آمیز ہوچکا ہے،ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔اقوامِ متحدہ خصوصاً سیکورٹی کونسل کے ویٹو پاور اختیار کے حامل ممالک کو امریکی چیرہ دستیوں کو روکنا ہوگا،پاک افغان پرامن تعلقات دونوں ملکوں اور عوام کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان حکومتیں خود ہی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں۔لیاقت بلوچ نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم، عالم باعمل مولانا فضل الرحیم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد علما اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اشرفیہ عالم اسلام اور پاکستان میں دینی تعلیم کا بہت اہم مرکز ہے، مولانا فضل الرحیم عالم باعمل،انتہائی نفیس اور مثالی استاد تھے، اْن کا شمار اکابر علما میں تھا۔ مجھے ذاتی طور پر شرف حاصل ہے کہ مولانا عبیداللہ اشرفیؒ، مولانا عبدالرحمن اشرفیؒ اور مولانا فضل الرحیمؒ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ نفاذِ شریعت اور اتحادِ اْمت کے لیے تینوں بھائیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا۔ مولانا فضل الرحیم کی خدمات تادیر سلامت رہیں گی۔ ہر طبقہ اور مکتب فکر نے اْن کی موت کو اپنا صدمہ جانا ہے۔ مرحوم کے مولانا مودودیؒ، میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کو 75 سال ہوگئے، سفارتی تعلقات کا یہ سفر بااعتماد، پائیدار دوستی کی روشن تاریخ ہے۔ عالمی تناظر میں پاک چین دوستی کئی ممالک کو کھٹکتی ہے لیکن پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے جو ان شاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ چین کی اقتصادی ترقی بے مثال ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کے لیے بہت اہم ہے۔ سی پیک کی تکمیل حقیقتاً پورے خطے کے لیے گیم چینجر ہوگا۔ عالمی بدلتے ہوئے حالات میں چین کا بڑا عالمی کردار ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکا آزاد، خودمختار ممالک کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے، امریکی صدر کا کردار عالمی امن کے لیے تباہی، آزاد ریاستوں کے لیے توہین آمیز ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ عالمی امن نوبل انعام سے مایوسی کے بعد صدر ٹرمپ امن کے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ خصوصاً سیکورٹی کونسل کے ویٹو پاور اختیار کے حامل ممالک کو امریکی چیرہ دستیوں کو روکنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے پاک افغان کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان پْرامن تعلقات ونوں ملکوں اور عوام کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان حکومتیں خود ہی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں۔ چین، ترکی اور قطر بھی پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں۔بھارت کی اسپورٹس دہشت گردی جنوبی ایشیا میں کھیلوں کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ پاکستان، سری لنکا، بنگلا دیش اور افغانستان کرکٹ بورڈز کو مشترکہ لائحہ عمل سے بھارتی اسپورٹس دہشت گردی کو لگام دینا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحیم سفارتی تعلقات لیاقت بلوچ نے پاک افغان پاک چین کہ پاک کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔