لاہور، یونیورسٹی میں خودکشی کا معاملہ، 21 سالہ طالبہ ہوش میں آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور:
نجی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کرنے والی 21 سالہ ڈی فارمیسی کی طالبہ کی حالت بہتر ہونے لگی ہے اور ہوش میں آگئی ہیں۔
لاہور جنرل ہسپتال کے چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی حالت پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ طالبہ آئی سی یو میں زیر علاج 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا۔
ڈاکٹر کے مطابق نجی یونیورسٹی کی زخمی طالبہ اب خود سانس لے رہی ہیں، آکسیجن سپورٹ جاری ہے اور ہیمو ڈائنامکس بھی مستحکم ہیں۔
: پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل کو طالبہ کے اب تک کے علاج اور آئندہ کے طبی لائحہ عمل سے متعلق مکمل آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ طالبہ مکمل ہوش میں آ گئی ہیں، جی سی ایس لیول 14/15 ریکارڈ کیا گیا اور اپنے گھر والوں سے بات چیت بھی کی ہے۔
مزید پڑھیںطالبہ کی مبینہ خودکشی، یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی
انہوں نے بتایا کہ نیورو سرجیکل ٹیم متحرک ہے، ریڑھ کی ہڈی کی ممکنہ سرجری سے متعلق کل دوبارہ اہم جائزہ لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ دو روز قبل لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ڈی فارم کی طالبہ 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے بلڈنگ کی تیسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم انہیں تشویش ناک حالت میں پہلے یونیورسٹی کے اسپتال اور بعد ازاں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں طالبہ کی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی اور اس حوالے سے تحقیقات بھی کی گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی تیسری منزل سے یونیورسٹی کی طالبہ کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔