مغربی کنارے میں یونیورسٹی پر اسرائیلی فائرنگ، 5 فلسطینی طلبہ زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
رام اللہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم پانچ فلسطینی طلبہ زخمی ہو گئے۔
فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق یہ واقعہ بیرزیت یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آیا، جو رام اللہ کے قریب واقع ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجی گاڑیاں صبح کے وقت یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئیں، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ نے فوجیوں کی آمد پر احتجاج کیا اور پتھراؤ بھی ہوا، تاہم کسی اسرائیلی فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیںآذربائیجان نے غزہ امن مشن میں فوج بھیجنے سے صاف انکار کر دیا
فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق مجموعی طور پر 11 طلبہ متاثر ہوئے، جن میں سے پانچ براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے جبکہ دو طلبہ آنسو گیس کے باعث بے ہوش ہو کر گرنے سے زخمی ہوئے۔ کئی زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق تو کی ہے مگر کیمپس میں داخل ہونے اور فائرنگ کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ فوج کا کہنا ہے کہ واقعے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
بیرزیت یونیورسٹی کے صدر طلال شاہوان نے کہا کہ یونیورسٹی اور اس کے طلبہ اکثر اسرائیلی کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، مگر اس بار کیمپس کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کرنا تمام حدود عبور کرنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارا بھی مسلسل اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، جہاں فلسطینیوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور املاک کی تباہی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔