برطانیہ میںفلسطین کا سفارتخانہ کھل گیا،آذربائیجان کابھی غزہ میں فوج بھیجنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-18
تل ابیب/غزہ /لندن /مغربی کنارے / ہرگیسا /باکو (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے منگل کو متنازع صومالی لینڈ کا دورہ کیا جو اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے اس علیحدگی پسند علاقے کو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی سینئر اسرائیلی عہدیدار کا پہلا دورہ ہے۔ صومالی لینڈ کی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کی سربراہی میں وفد دارالحکومت ہرگیسا پہنچا جہاں اعلیٰ سرکاری حکام نے ان کا استقبال کیا، دورے کے دوران گیڈیون سار نے صومالی لینڈ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ کے صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ جلد اسرائیل کا سرکاری دورہ کریں گے۔ادھر صومالیہ کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز گیڈیون سار کے ہرگیسا کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے، صومالیہ کی رضامندی کے بغیر کسی بھی سرکاری نوعیت کی سرگرمی غیر قانونی اور کالعدم ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ریاستِ فلسطین کے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ سفارت خانہ مغربی لندن کے علاقے ہیمرسمتھ میں قائم کیا گیا ہے، جو اس سے قبل فلسطینی مشن کے طور پر کام کر رہا تھا۔ افتتاحی تقریب میں متعدد غیر ملکی سفارت کاروں، برطانوی حکومت کے نمائندے الیسٹئر ہیریسن اور فلسطین کے حامی افراد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملوط نے سفارت خانے کی عمارت کو برطانوی سرزمین پر فلسطین کا ایک حصہ قرار دیا۔ سفیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ سفارت خانہ امن، ثابت قدمی، وقار اور فلسطینی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے طویل جدوجہد کی علامت ہے۔ آذربائیجان کے صدر اہلام علی یف نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے امن فوجی مشن میں حصہ نہیں لے گا، جس میں غزہ کے لیے بین الاقوامی امن فورس بھی شامل ہے۔ صدر علی یف نے آذری ٹی وی چینلز سے گفتگو میں کہا کہ وہ اپنے ملک کے باہر کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر غور نہیں کر رہے۔دوسری جانب، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام کے حق میں ہیں، کیونکہ یہ فورس ہی فلسطینیوں کی حفاظت اور زندہ رہنے کی ضمانت دے سکتی ہے۔اسرائیلی فوج نے آج منگل کے روز غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ یہ خلاف ورزیاں مسلسل87 ویں روز میں داخل ہو چکی ہیں جہاں قابض فوج نے مشرقی غزہ میں فضائی حملے اور توپخانے کی شدید گولہ باری اور مزید رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے علی الصبح رفح کے جنوب مغرب میں واقع علاقے العلم کے المواصی حصے کی جانب براہ راست فائرنگ کی۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقوں پر شدید فائرنگ کی۔فجر کے وقت اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر پے در پے فضائی حملے کیے۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما ماجد ابو قطیش نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اطراف میں جاری خطرناک آبادکاری میں اضافہ اور القدس کے باسیوں کے خلاف مسلسل جارحیت بالخصوص القدس کے مشرق میں بدوی آبادیوں کو نشانہ بنانا جن میں تازہ ترین نشانہ الحثرورہ کی بستی ہے ایک مکمل جرم ہے۔ اسرائیلی حکام اور آبادکار ملیشیا کی جانب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی پالیسی جرم ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم بیرزیت یونیورسٹی کے کیمپس پر دھاوا بولتے ہوئے طلبہ پر براہ راست گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ اور اساتذہ زخمی ہو گئے۔بیرزیت یونیورسٹی کی تعلقات عامہ کی ذمہ دار نیردین المیمی نے بتایا کہ ایک طالب علم کے پاؤں میں گولی لگی، جبکہ دو دیگر طلبہ بھگدڑ کے باعث زخمی ہوئے۔ متعدد طلبہ آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے‘ فوج نے کیمپس کے اندر گولیاں، آنسو گیس کے گولے اور دھماکا خیز گولے داغے۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد النصاری نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے سلسلے میں ثالثی کو متعدد پیچیدگیاں درپیش ہیں اور اس سلسلے میں مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔النصاری نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، جو امن کے قیام کے لیے اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کی جانب سے
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔