برطانیہ (ویب ڈیسک) لندن میں فلسطین کا پہلا سفارت خانہ کام کرنے لگا۔برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ریاستِ فلسطین کے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یہ سفارت خانہ مغربی لندن کے علاقے ہیمرسمتھ میں قائم کیا گیا ہے، جو اس سے قبل فلسطینی مشن کے طور پر کام کر رہا تھا۔

افتتاحی تقریب میں متعدد غیر ملکی سفارت کاروں، برطانوی حکومت کے نمائندے الیسٹئر ہیریسن اور فلسطین کے حامی افراد نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملوط نے سفارت خانے کی عمارت کو برطانوی سرزمین پر فلسطین کا ایک حصہ قرار دیا۔

فلسطینی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ سفارت خانہ امن، ثابت قدمی، وقار اور فلسطینی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے طویل جدوجہد کی علامت ہے۔

انہوں نے اس موقع کو برطانیہ اور فلسطین کے تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ اور ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزادی کے سفر میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

فلسطینی سفیر نے مزید کہا کہ سفارت خانے کا قیام فلسطینی شناخت کے تسلسل کا ثبوت ہے اور غزہ، مغربی کنارے اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے مزاحمت اور امید کا پیغام ہے۔

یہ دفتر کئی دہائیوں سے برطانیہ میں فلسطین کے ایک نمائندہ دفتر کے ذریعے سفارتی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا تاہم اسے مکمل سفارتی حیثیت حاصل نہیں تھی۔

طویل عرصے تک یہ دفتر فلسطینی مشن کہلاتا رہا اور محدود اختیارات کے ساتھ کام بھی کرتا رہا تھا تاہم اب یہ بطور سفارت خانہ فعال ہوگیا۔

یاد رہے کہ برطانوی حکومت نے 20 ستمبر کو ایک تاریخی فیصلے کے تحت فلسطین کو باضابطہ طور پر آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کیا تھا۔

اس فیصلے کا اعلان وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کیا تھا، جنھوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام لندن اور فلسطین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا