متنازعہ صومالی لینڈ: اسرائیلی وزیرخارجہ کا دورہ، صومالیہ کی سخت مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے آج متنازع صومالی لینڈ کا دورہ کیا جو اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے اس علیحدگی پسند علاقے کو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی سینیئر اسرائیلی عہدیدار کا پہلا دورہ ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں صومالی لینڈ کی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کی سربراہی میں وفد دارالحکومت ہرگیسا پہنچا جہاں اعلیٰ سرکاری حکام نے ان کا استقبال کیا، دورے کے دوران گیڈیون سار نے صومالی لینڈ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
اسرائیل نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جو صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا اور اب تک واحد ملک ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ کے صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ جلد اسرائیل کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ادھر صومالیہ کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز گیڈیون سار کے ہرگیسا کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے، وزارتخارجہ نے کہا کہ صومالیہ کی رضامندی کے بغیر کسی بھی سرکاری نوعیت کی سرگرمی غیر قانونی اور کالعدم ہے۔
صومالیہ کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ، افریقن یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کریں۔
خیال رہے کہ صومالی لینڈ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہا ہے، خلیج عدن کے کنارے واقع ہونے کے باعث یہ علاقہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور اس کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور فوج موجود ہے۔
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے فیصلے پر افریقی ممالک اور مسلم اکثریتی ریاستوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے جنہوں نے اسے صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ صومالیہ کی کی جانب سے کو تسلیم
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :