تھائی لینڈ کا کمبوڈیا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، حملے میں ایک فوجی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
تھائی لینڈ کی فوج نے کہا ہے کہ کمبوڈیا کی جانب سے سرحدی فائرنگ کے ایک واقعے میں تھائی فوج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا جسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے تاہم کمبوڈیا کی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ دانستہ نہیں بلکہ ایک حادثاتی کارروائی تھا۔
یہ بھی پڑھیں:َ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فوری جنگ بندی پر اتفاق
تھائی فوج کے مطابق منگل کی صبح کمبوڈین فورسز نے تھائی لینڈ کے صوبے اوبون راتچاتھانی میں مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں ایک فوجی شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
بعد ازاں تھائی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ کمبوڈیا کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور وضاحت دی گئی کہ تھائی حدود میں فائرنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور یہ واقعہ کمبوڈین اہلکاروں کی آپریشنل غلطی کے باعث پیش آیا۔؎
تھائی فوج نے کمبوڈیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش آیا تو جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع کی ترجمان مالی سوچیٹا نے اس مبینہ حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیے: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں، امریکی ثالثی بے اثر
تھائی وزیرِاعظم انوتن چرنویراکول نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے اس واقعے پر کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عسکری سطح پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا ہے تاہم تھائی لینڈ اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ ذمہ داری کیسے طے کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ تھائی لینڈ کے پاس کمبوڈیا کو جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے تاہم فی الحال سرحدی علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا البتہ صوبائی حکام کو تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا ایک مہینے میں دوسری بار تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 27 دسمبر کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد دسمبر میں ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
پرانا سرحدی تنازعتھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان دہائیوں پرانا تنازع نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی 800 کلومیٹر طویل سرحد کی حد بندی سے جڑا ہوا ہے جہاں دونوں ممالک بعض علاقوں اور قدیم مندروں پر دعویٰ کرتے ہیں۔
جنگ بندی کے تحت دونوں ممالک نے فائر بندی، فوجی نقل و حرکت روکنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔
31 دسمبر کو تھائی لینڈ نے 18 کمبوڈین فوجیوں کو رہا کیا تھا جسے خیرسگالی اور اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا گیا۔ تاہم سرحدی حد بندی کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تھائی لینڈ میں وزیر اعظم نے پارلیمان تحلیل کر دی، جلد انتخابات کا اعلان
کمبوڈیا نے اس ماہ صوبہ سیئم ریپ میں دوطرفہ سرحدی کمیٹی کے اجلاس کی تجویز دی ہے جبکہ تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات پر بات چیت ممکنہ طور پر آئندہ حکومت کے قیام کے بعد کی جائے گی کیونکہ ملک میں 8 فروری کو انتخابات متوقع ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ تھائی لینڈ کمبوڈیا تنازع کمبوڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ تھائی لینڈ کمبوڈیا تنازع کمبوڈیا تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کمبوڈیا کی تھائی فوج
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو