جمعیت طلبہ عربیہ مدارس کے طلبہ کی بہتر تربیت کررہی ہے،رضوان احمد حمدانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-2-14
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)جمعیت طلبہ عربیہ ضلع حیدرآباد کے منتظم رضوان احمد احمدنی نے کہا ہے کہ جمعیت مدارس کے طلبہ کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم ہے جو مدراس کے طلبا کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے پشاور میں جمعیت کے سالانہ اجتماع میں طلبہ بھرپور طرح سے شریک ہو ںگے۔ یہ بات انہوں نے مدرسہ ریاض العلوم عثمان شاہ ٹنڈوجام میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا ملحدین اور لادینی قوتوں کو سب سے زیادہ خوف مدراس سے ہے ان کی پاکستان میں ہر محاز پر ناکامی کے پیچھے مدراس ہیں جنہوں نے ان کا ہر محاز پر مقابلہ کرکے لوگوں کو ان کا اصل چہرہ دیکھایا۔ انہوں نے کہا اس وقت ملک میں اگر نقل کے کینسر سے منشیات سے پاک ہیں تو مدراس ہیں جو صحیح معنوں میں اپنی تعلیم وتربیت پر توجہ دے رہیںاور جمعیت طلبہ عربیہ جو مدراس کے طلبہ کی سب سے بڑی اور منظم تنظم ہے وہ ان کی تربیت اور تعلیم میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا جمعیت طلبہ عربیہ کا سالانہ اجتماع جو 25جنوری سے پشاور میں ہو رہا ہے اس میں ضلع حیدرآباد کے مدراس کے طلبا کی بڑی تعداد شریک ہو گی اور یہ اجتماع طلبا کی رہنمائی اور مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جلسے مہتم مدرسہ لیاقت بروہی اورعثمان پڑھیار سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جمعیت طلبہ عربیہ انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔