خودکشی کے واقعات کے بعد لاہور نجی یونیورسٹی میں حفاظتی جنگلے نصب، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی بلند عمارتوں کے اطراف حفاظتی جنگلے نصب کیے جا رہے ہیں جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف لاہور نے خودکشی کے واقعات کے پیش نظر حفاظتی انتظامات شروع کر دیے pic.
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) January 6, 2026
واضح رہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ڈی فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔
طالبہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبہ کی دونوں ٹانگیں، ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں جبکہ سر پر بھی گہری چوٹ آئی ہے اور متعدد فریکچرز تشخیص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چند روز کے دوران لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ایک اور سانحہ، طالبہ نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی
واضح رہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ چند روز کے دوران یہ دوسرا افسوسناک واقعہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم محمد اویس نے بھی عمارت سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔ بعد ازاں مرحوم کے بھائی نے الزام عائد کیا تھا کہ محمد اویس کو اساتذہ کی جانب سے شدید ذہنی دباؤ اور مبینہ ہراسانی کا سامنا تھا۔
مرحوم کے اہل خانہ کے مطابق کم حاضری کے باعث اویس کو امتحان میں بیٹھنے سے روکنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں جس پر اس نے اپنی استاد سے درخواست کی تھی کہ ایسا کرنے سے اس کا پورا سمسٹر ضائع ہو جائے گا، تاہم اس کی بات نہ سنی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طالبہ کی خود کشی طالبہ کی خود کشی کی کوشش لاہور یونیورسٹی محمد اویس خود کشی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طالبہ کی خود کشی طالبہ کی خود کشی کی کوشش لاہور یونیورسٹی محمد اویس خود کشی طالبہ کی
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔