لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بات سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی جو سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورس کرنے سے متعلق اہم اجلاس
اجلاس کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تینوں ایئرپورٹس مالی طور پر منافع بخش ہیں تاہم وہاں فراہم کی جانے والی سروسز کا معیار مطلوبہ سطح پر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد خدمات ماہر نجی کمپنیوں کے سپرد کی جائیں گی، چاہے یہ کمپنیاں غیر ملکی ہوں، تاہم قیادت پاکستانی ہاتھوں میں رکھنے کو ترجیح دی جائے گی۔
سیکریٹری دفاع نے پی آئی اے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم اصل مسئلہ طیاروں اور وسائل کی کمی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے پاس 17 سے 18 طیارے موجود ہیں جو ہفتہ وار قریباً 490 پروازیں آپریٹ کر رہے ہیں، جبکہ برطانیہ اور یورپ کے تمام روٹس مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
کمیٹی اجلاس میں چترال کے لیے پروازوں کی بحالی کی سفارش بھی کی گئی، جس پر سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ نجکاری کے بعد 15 ماہ کے دوران قومی ایئر لائن میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو خریدار کی جانب سے قانونی طور پر ادا کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چترال کا روٹ خسارے کے باعث بند کیا گیا تھا، تاہم کنسورشیم کو تجویز دی جائے گی کہ چھوٹے طیاروں کے ذریعے ایسے روٹس دوبارہ بحال کیے جائیں۔
سیکریٹری دفاع نے سیاحت کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے 100 بڑے پہاڑوں میں سے 62 پاکستان میں واقع ہیں، لیکن پاکستان میں سالانہ صرف 15 ہزار افراد ہائیکنگ کے لیے آتے ہیں، جبکہ نیپال میں یہ تعداد 15 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال میں بھی سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ریلویز نے نئی ٹکٹ ریفنڈ پالیسی متعارف کرادی
کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ایک نئی فضائی کمپنی ’ساؤتھ ایئر‘ متعارف کرائی جا رہی ہے جو شمالی بلوچستان پر توجہ دے گی، اور جون 2026 تک اس کے بیڑے میں 5 سے 6 اے ٹی آر طیارے شامل ہونے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایئرپورٹس آؤٹ سورس پی آئی اے نجکاری شہباز شریف منظوری وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹس ا ؤٹ سورس پی ا ئی اے نجکاری شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز سیکریٹری دفاع بتایا کہ جائے گی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔