اسلام آباد (خبر نگار خصوصی ) وزیر اعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کیلئے روڈ میپ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے”سمیڈا“ کے بزنس پلان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آئندہ تین سال کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے قابل عمل و موثر پلان تشکیل دینے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سراہتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو بنکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو درپیش مسائل اور ان کے سدباب کے لیے لائحہ عمل، ایس ایم ایز کو ملکی برآمدات میں شامل کرنے کے لیے حکمت عملی اور بزنس پلان میں شامل دیگر اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پاکستان کے ایس ایم ای سیکٹر کو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ جاری تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملکی ایس ایم ایز کی استعداد بڑھانے لیے حال ہی میں 6 شہروں میں متعدد ورکشاپوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنے کے لیے متعدد تربیتی پروگرامز پر بھی کام جاری ہے۔ اجلاس میں خواتین کی ایس ایم ای سیکٹر میں شرکت اور بھرپور کردار ادا کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد، چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز، سمیڈا کے نو منتخب بورڈ ارکان اور متعلقہ اداروں کے افسران شریک تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر اظہار تعزیت کیلئے بنگلہ دیش کے ہائی کمشن گئے جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کی ناظم الامور سے خالدہ ضیاءکے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنا تعزیتی بیان تحریر کیا جس میں انہوں نے بیگم خالدہ ضیاءکو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک صاحب بصیرت رہنما اور نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاءکے اہل خانہ، ان کی پارٹی کے کارکنان اور بنگلہ دیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ شہبازشریف نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم اعلیٰ اور شیخ الحدیث حافظ فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا ہے۔ شہبازشریف 18 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کا 4 روزہ دورہ کریں گے۔ وزیراعظم جنیوا میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اجلاس میں بنگلہ دیش کا اظہار ایس ایم کے لیے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف