امریکا ویزا پالیسی میں تبدیلی، مزید 25 ممالک کے شہریوں کیلئے 15 ہزار ڈالر تک بانڈ جمع کرنا لازم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے ویزا بانڈ پروگرام کو نمایاں طور پر وسعت دیتے ہوئے مزید 25 ممالک کو بانڈ ادا کرنے کی شرط کے دائرہ کار میں شامل کر لیا ہے۔
نئی فہرست میں الجزائر، بنگلہ دیش، کیوبا، نیپال، نائیجیریا اور وینزویلا سمیت متعدد افریقی، ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو بی ون اور بی ٹو ویزا کے لیے درخواست دیتے وقت 5 ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔
مزید ممالک کی شمولیت کے بعد اس پروگرام کے تحت آنے والے ممالک کی مجموعی تعداد 38 ہو گئی ہے، جبکہ نئے شامل کیے گئے ممالک پر یہ شرط 21 جنوری سے نافذ ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بانڈ کی رقم کا تعین ویزا انٹرویو کے دوران کیا جائے گا، تاہم بانڈ کی ادائیگی ویزا کی منظوری کی ضمانت نہیں ہوگی۔ اگر ویزا درخواست مسترد ہو جائے یا بانڈ کی شرائط پوری نہ کی جائیں تو رقم واپس کر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ پالیسی ابتدا میں اگست 2025 میں پائلٹ پروگرام کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی، جس کا مقصد ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر قیام کرنے والوں کی تعداد میں کمی لانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔