کراچی پولیس کی پنک اور بلیو بک میں کن گینگز کا ذکر؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی پولیس میں ریڈ بک کے بعد پنک اور بلیو بک بھی شامل کرلی گئی۔
ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق گھریلو ملازمین پر مشتمل گینگ کی بک کو ’پنک بک‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ گھروں میں ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم گینگ کی بک کو ’بلیو بک‘ کہا جائے گا۔
اس کے ساتھ پولیس حکام نے گھروں میں واردات کرنے والے ڈاکوؤں اور ماسیوں کی فہرست جاری کردی ہے۔
پنک بک ڈیفنس سمیت پوش علاقوں میں وارداتیں کرنے والی ماسیوں پر مشتمل ہے، وارداتیں کرنے والی 154 ماسیوں کے نام اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلیو بک کا ریکارڈ لوٹ مار کرنے والے گروہ پر مشتمل ہے جس میں شامل کرمنلز گھر میں ڈکیتیاں کرتے ہیں، اس بک میں وارداتیں کرنے والے 270 ملزمان کو شامل کیا گیا ہے۔
ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ بنگلوں میں وارداتیں کرنے والی ماسیوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے جبکہ فہرست میں ڈیفنس میں گھروں میں وارداتیں کرنے والے اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان شامل ہیں۔
پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی متعلقہ پولیس اسٹیشن سے ویریفکیشن ضرور کروائیں یا کم از کم ان کے کوائف ضرور جمع کرائیں تاکہ پولیس کے پاس بھی ان کا ریکارڈ موجود رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں وارداتیں کرنے گھروں میں کرنے والے بلیو بک
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک